خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 770 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 770

خطبات طاہر جلد 15 770 خطبہ جمعہ 4/اکتوبر 1996ء وجودا شارہ بھی اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ہاں اس مالکیت کا نظارہ کرنے والا کوئی ہونا چاہئے تھا ورنہ یہ انتہائی لطف کا لمحہ کا ئنات کی دسترس سے باہر ہو جاتا۔پس وہ ایک منظر ہے جس کو میرا دل قبول کرتا ہے اور میرا ذہن اس کی تصویر کھینچتا ہے ، روح صلى الله کا ذرہ ذرہ اس پر فدا ہوتا ہے۔تمام مالکیت خدا کی طرف لوٹ گئی اور محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود اس میں باشعور ہونے کے باوجود اس میں حائل نہیں ہے۔اس وقت پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔احادیث میں آتا ہے سب سے پہلا شخص جو سر اٹھائے گاوہ موسیٰ ہوں گے تو اس کو دیکھنے والا بھی تو کوئی تھا یعنی خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو، میرے نزدیک، پہلے کامل ہوش میں رکھا تھا۔آپ گویا یہ نظارہ کر رہے ہیں کہ سب سے پہلے کون رسول سراٹھاتا ہے وہ حضرت موسی“ ہیں۔”سب سے پہلے میں علماء رسول اللہ اللہ کو اس طرح نکال دیتے ہیں کہ گویا آپ بھی تمام میں شامل تھے اور اس کے باوجود موسی" کو پہلے ہوش آئی رسول اللہ ﷺ کو نہیں آئی۔یہ جو حدیثیں ہیں بہت الجھاؤ والی ہیں اور ان پر تفصیل سے میں ایک دفعہ روشنی ڈال چکا ہوں لیکن منطقی بحثوں میں پڑے بغیر میں پھر اپنے اس کامل ایمان کا اظہار کرتا ہوں کہ وہ حدیثیں درست روایت کے لحاظ سے تھیں یا نہیں ان کا جو بھی مفہوم 6* صلى الله ہے اس آیت کریمہ میں جو من ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺہے ہیں۔ورنہ مالکیت میں کوئی اور حق دار ہو ہی نہیں سکتا۔اگر خدا کے علاوہ کوئی اور شعور میں رکھا جائے اور مالکیت اس کی طرف کامل طور پر لوٹ جائے تو ہر باشعور اس مالکیت میں کسی نہ کسی رنگ میں حصہ پائے گا اور اپنے انفرادی وجود کی حیثیت سے وہ باقی رہے گا۔مگر وہی ہے جو رکھا جاسکتا ہے جس کا باقی رہنا نہ رہنا ان معنوں میں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا کہ گویا وہ خدا کی کسی صفت میں اس سے برابری کا کسی پہلو سے بھی دعویدار رہا ہو یا اس کے وہم وگمان سے بھی یہ بات گزر سکے یہ کامل وجو د سوائے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے اور کوئی نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفاسیر بھی اسی بات پر روشنی ڈالتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں مالکیت میں سورہ فاتحہ میں جو لفظ ما لک آتا ہے آخر پر یہ ظاہر کر رہا ہے، ثابت کر رہا ہے کہ وہ آخری رسول الله ، و آخری پیغمبر بن کے خدا کا پیغام لے کے دنیا کے سامنے آئے وہ خدا کی مالکیت کے صلى الله مظہر تھے اور وہ رسول اللہ کے ہیں اور اس صفت میں آپ کا کوئی اور شریک نہیں۔پس اس پہلو سے یہ اللہ کی قدر ہے جو کسی کو علم نہیں کوئی اس کا حق ادا نہیں کرتا۔