خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 768
خطبات طاہر جلد 15 768 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء خدا وہ ہے جس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔کائنات کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اس کے قبضہ قدرت سے باہر ہو۔وَالسَّمُوتُ مَطوِيتُ بِیمینہ یعنی زمینیں بھی اور آسمان بھی ، زمینی لوگ بھی اور آسمانی لوگ بھی سب خدا کے حضور ایسے ہوں گے جیسے ان کی صف لپیٹ کر گویا خدا کے ہاتھوں کے گرد لپیٹ دی گئی ہو۔وَنُفِخَ فِی الصُّورِ یہ وہ وقت ہوگا جب کہ پھر صور پھونکا جائے گا اور پہلا صور جو ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ پہلے صور کے نتیجہ میں جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے وہ غش کھا کے جاپڑے گا یعنی وہ تفرید کا ایک ایسا لمحہ ہے جس کی کوئی اور مثال کہیں دوسری جگہ دکھائی نہیں دیتی یعنی قرآن کریم کی آیات میں جیسا تفرید الہی کا مضمون یہاں بیان ہوا ہے اس کامل اطلاق کے ساتھ کہ وہ ہر کائنات کی شے پر حاوی ہو کہیں اور مضمون بیان نہیں ہوا۔یہ ہے اللہ کی قدر کہ خدا کے سوا ہر چیز عملاً ایسے ہو جیسے غائب ہو چکی ہو، اس کا کوئی وجود نہیں رہا اور مَنْ جو لفظ ہے وہ تمام ذی شعور ہستیوں کے اوپر اطلاق پاتا ہے، جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو بھی زمین میں ہے سب کے اوپر یہ لفظ اطلاق پا رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شعور کے لحاظ سے وہ مالکیت کا عروج ہے ایسی مالکیت جلوہ گر ہوگی کہ جس کی کوئی مثال آپ کو کہیں اور پہلے دکھائی نہیں دے گی ایک ہی ذی شعور ہستی رہ جائے گی تمام کائنات میں آسمانی وجود ہوں یا زمینی وجود ہوں سب کچھ وقفے کے لئے ، جس کا اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں اپنے ہوش و حواس سب کھو دیں گے اور ملکیت کا تصور تمام تر مکمل ہو کر خدا کی طرف لوٹے گا۔اس کے بعد مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا دور شروع ہوتا ہے۔ہر چیز جو خدا نے پیدا کی ہر شعور جو خدا نے بخشا زمینی ہو یا آسمانی ہو وہ ایک وقت میں واپس لوٹ جائے گا خدا کی طرف۔اس کے سوا کوئی بھی نہیں ہوگا۔اس کو تفرید کہتے ہیں یعنی اکیلا رہ جانا اور یہی ملکیت کا مفہوم ہے کہ حقیقی مالک چونکہ وہی ہے اور ثانوی ملہ ی ملکیتیں جو اس نے بخشی ہیں وہ چونکہ واپس لے لی جائیں گی کیونکہ اس کے بعد پھر فیصلوں کا مضمون شروع ہوگا۔ایسے فیصلے جو کائنات کے آغاز سے لے کر آخر تک تمام اہم امور سے تعلق رکھتے ہیں ، ان کے فیصلے پھر اس دن کئے جائیں گے۔اس لئے خدا کی ملکیت کا ظہور اس سے پہلے، حشر نشر سے پہلے مکمل ہو جانا چاہئے لیکن اس میں ایک الا بھی ہے جس کے متعلق اس سے پہلے میں روشنی ڈال چکا ہوں۔إِلَّا مَنْ شَاءَ اللہ سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔مفسرین اس