خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 763 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 763

خطبات طاہر جلد 15 763 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء نہایت لطیف توازن ہے۔امیر کس نے بنایا ؟ خدا نے بنایا اور فقیر کس نے بنایا ؟ وہ بھی تو خدا ہی نے بنایا ہے۔اس لئے پوچھنے میں فرق نہیں کرے گا۔امیر کو اس کی حیثیت کے مطابق پوچھا جائے گا یہ مضمون ہے اور فقیر کو بھی اس کی حیثیت کے مطابق پوچھا جائے گا۔یہ ضروری نہیں کہ صرف امیر ہی نیکی کر سکتا ہو یا عطا کر سکتا ہو، فقیر بھی عطا کر سکتا ہے اور بعض دفعہ فقیروں کی عطائیں امیروں پر سبقت لے جاتی ہیں۔تو جب انعام کا مضمون جاری ہوگا تو پھر پکڑ اور سزا کا مضمون بھی جاری ہو گا ہاں ان کی غلطیاں ، ان کے ماحول کے مطابق دیکھی اور پرکھی جائیں گی اور استطاعت کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے گا۔لیکن یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ فقرہ یا درکھنے کے لائق ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔اس سے بھی زیادہ کا پھر کیا مضمون ہے۔ایک طرف فرماتے ہیں ہاں اسی طرح دیکھا جائے گا۔اس سے بھی زیادہ سے وہ مضمون مراد ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے کہ امیر کو چونکہ نعمتیں زیادہ ملی ہیں اس لئے اس کی ذمہ داریاں پھیل گئی ہیں۔ان معنوں میں امیر سے زیادہ پوچھا جائے گا کیونکہ فقیر کے پاس تو ہے ہی تھوڑا سا کسی کو آپ چار آنے دیں کہ چار آنے کا سودالے آؤ اور پھر اس سے حساب کریں تو وہ ایک منٹ کے تھوڑے سے حصے میں حساب ہو جائے گا۔دو پیسے کا تیل لیا ایک پیسے کا فلاں لیا۔کسی کو لاکھ روپیہ دیں تو حساب میں وقت لگتا ہے۔تو زیادہ پوچھنے سے یہ مراد ہے کہ چونکہ امیر کی استطاعت زیادہ ہے اس لئے اس سے زیادہ تفصیلی حساب ہوگا بہ نسبت ایک غریب کے جس کی استطاعت ہی تھوڑی ہے۔پس کیا ہی بدقسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ: 71) پس کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے جو اس عارضی دنیا پر معمولی ی زندگی پر بھروسہ کر کے بکنی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے۔آپ سے میں نے گزشتہ خطبہ میں گزارش کی تھی کہ یہ مضمون ”کشتی نوح“ کے حوالے سے پڑھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی یہ اس کا دوسرا کنارا ہے جو بیان ہو رہا ہے۔کشتی نوح کے مضمون میں یہ تھا کہ ادنی سی بھی غفلت کرے گا تو مارا جائے گا۔مطلب ہے کہ وہ سزا کے نیچے آجاتا ہے ، ایسی تلوار کے نیچے آجاتا ہے جوٹوٹ کے گر سکتی ہے اس کے اوپر۔یہاں چونکہ مغفرت کے مضمون کے ساتھ تعلق ہے اس