خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 764

خطبات طاہر جلد 15 764 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء لئے فرمایا ہے کہ جتنا بھی تم بے اعتنائیوں میں آگے بڑھو اگر گل تعلق نہ توڑ بیٹھ تو امکان ہے کہ تم بچ جاؤ۔اس لئے کیا ہی بد قسمت ہے وہ شخص جو دنیا کی زندگی پر بھروسہ کرتے ہوئے بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے۔کلی والوں کے لئے مغفرت کا کوئی مضمون نہیں ہے۔جن کی برائیاں ، زندگی کی بدیاں ان کو گھیرے میں لے لیں اور پھر خدا سے کلیۂ غافل ہو جائیں ان کی دنیا ہی بدل جاتی ہے وہ اور ہی قسم کے لوگ بن جاتے ہیں۔بعض ملکوں میں بھاری کثرت ان لوگوں کی ہے جو بکلی خدا سے منہ پھیر بیٹھے ہیں اور یہ زمانہ بڑا نازک ہے جس میں ہم اس وقت گزر رہے ہیں۔تو یاد رکھو کہ اگر انسان خدا سے جدائی کرتے کرتے بغیر کسی ضمیر کی آواز کے آگے بڑھتا چلا جائے یا یوں کہنا چاہئے ضمیر کی آواز پر دھیان دیئے بغیر آگے بڑھتا چلا جائے تو لازماً ایک ایسا مقام آئے گا جہاں وہ حد سے گزر جائے گا اور اس سے تجاوز کرنے کے بعد پھر واپسی کی راہ کٹ جاتی ہے، تو وہ راہیں ہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان را ہوں یا ان حدود کی نشان دہی کر رہے ہیں جن حدود سے آگے پھر مغفرت کا مضمون ختم اور پکڑ اور جہنم کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔تو یا درکھو کہ وہ شخص بڑا ہی بدنصیب اور بد قسمت ہے جو مختصر زندگی پر بھروسہ کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اتنا دل لگا بیٹھتا ہے کہ گویا خدا اس کے تصورات سے باہر نکل چلا ہے، اس کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا۔اگر یاد آتا ہے تو ایک خادم کے طور پر یاد آتا ہے کہ یہاں ضرورت پڑی ہے اے خدا ! میرا کام کر دے۔بیمار ہوتا ہے تو یاد آنے کا یہ مطلب نہیں کہ بکلی نہیں نکلا ، بکھی نکلا ہوا ہے اور یا دخدا کے طور پر نہیں آتا بلکہ نوکر کے طور پر آتا ہے۔ایک متکبر شخص اپنے سے ادنی وجود کو جس طرح سمجھتا ہے کہ میری خدمت کے لائق بنایا گیا ہے جب ضرورت پڑے گی آواز دے گا تو خدا سے وہ تعلق ہرگز نہیں ہے وہ خدا اس کی دنیا سے نکل چکا ہے اور تب ہی پھر وہ آتا نہیں۔ایسا شخص لاکھ آوازیں دیتارہ جائے خدا اس کی دنیا میں نہیں آتا کیونکہ اس کی آواز اس کو پہنچتی نہیں۔پس بکلّی خدا سے تعلق توڑ بیٹھنا ایک اتنا خطرناک مضمون ہے کہ جو روز مرہ زندگی میں در پیش آنے کے باوجود ہم سوچتے نہیں ہیں کیونکہ تعلق جب ٹوٹے تو ٹوٹتے ٹوٹتے ٹوٹتا ہے۔جڑے تو جڑتے جڑتے جڑتا ہے ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہمارا رخ ٹوٹنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے یا جڑنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے اتنا ساشعور ہے