خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 762
خطبات طاہر جلد 15 762 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء ساتھ ساتھ جاری ہے اور بہت لطیف ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ دکھائی نہیں دیتا مگر گہرے نظام پر ہر چیز مبنی ہے۔اللہ تعالیٰ کو ادا ئیں وہی پسند آتی ہیں جن کا سچائی سے تعلق ہے اور خلوص سے تعلق ہے اور اس کے بغیر کوئی ادا اس کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے۔جب ایسی بات کوئی دیکھ لے پھر خدا اس کو اپنا دل دے دیتا ہے اور فضل کے مضمون کا تعلق دل دینے سے ہے اصل میں۔جس طرح ایک عظیم مغل بادشاہ نے ایک اپنی لونڈی کو دل دے دیا وہ دل دے بیٹھا تو اپنی ساری سلطنت دے دی ،سب سے عظیم مقام دے دیا۔اب کبوتر اڑانے سے اس سلطنت کا کیا تعلق ہے۔یہ مضمون دل دینے کے مضمون کے سوا سمجھ آہی نہیں سکتا تو وہ دل دے بیٹھا۔تو اللہ بھی گویا اپنے بندوں کو ان کی بعض حقیر سی پیاری سی ادا پہ جو حقیر تو ہے مگر پیاری ہے دل دے بیٹھتا ہے جب دل دے بیٹھتا ہے تو سارا اس کا فضل، اس کی ساری عظمتیں اس کو عطا ہونے لگتی ہیں۔اس مضمون کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت ہی عارفانہ رنگ میں بیان فرمایا ہے لیکن ابھی تو اس کی باری ہی نہیں آئی جو پہلا اقتباس میں پڑھ رہا تھا یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی تھی کہ میں آپ کو بتاؤں کہ آپ ڈریں گے بہت اس اقتباس سے ، بعضوں کی تو جان نکل جائے گی ڈر کے مارے کہ یہ اگر ہمیں بخشش کے تقاضے اور دنیا میں نئی زندگی پانے کے تقاضے تو ہم تو گئے۔ان کو بتا تا ہوں کوئی بھی نہیں جائے گا اگر وہ ان باتوں پر نظر رکھے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں کہ مغفرت کی طرف آگے ضرور بڑھو۔جتنی طاقت ہے اتنا بڑھو اور پھر یقین رکھو کہ مغفرت نصیب ہو جائے تو تمام کائنات کی نعمتیں نصیب ہو گئیں اور وہ نعمتیں نصیب ہوں گی جو بڑھتی چلی جائیں گی اور پھر فضل کا مضمون اس پر مستزاد ہے جو میں بیان کر چکا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ( یہ میں شاید پڑھ چکا تھا یا نہیں ) کہ: وو ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسان کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ ایک فقیر یہ پڑھ لیا تھا پچھلی دفعہ؟ بعض کہتے ہیں پڑھ لیا بعض نہیں میں پھر بھی پڑھ دیتا ہوں کوئی حرج نہیں ، امیر بھی اسی طرح پوچھا جائے گا جیسے ایک فقیر۔اب کیا اس میں نا انصافی ہے۔امیر کو تو اور طرح پوچھنا چاہئے فقیر کو اور فقیر بے چارہ تو غریب ہے لیکن وہی مضمون آپ کو بتا رہا ہوں کہ خدا کے ہاں