خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 758
خطبات طاہر جلد 15 758 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء اعمال کو رفتہ رفتہ جہاں تک ممکن ہو ان گندے اعمال کو دور کر کے نیک اعمال میں داخل ہونے کی سعی مسلسل سعی بلکہ سبقت لے جانے کی کوشش اور پھر آخر پر پھر وہی بات کہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد پھر بھی پتا نہیں کیا حالت ہے تو پھر اس دنیا کے اندھے کی طرح نیک اعمال پر ایسے ہاتھ مارو کہ گویا کہ سب کچھ سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہو۔اس حالت میں اگر موت آتی ہے تو خدا کا یہ وعدہ لازماً پورا ہوگا سَابِقُوا إلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ اس مغفرت کی طرف آگے بڑھو یعنی اس جنت کی طرف ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، ان کا عرض ، ان کا پھیلاؤ، ان کی وسعتیں زمین اور آسمان کی وسعتوں کی طرح ہیں۔لامتناہی ہیں۔کبھی ختم نہیں ہوں گی۔جلدی کر لو کیونکہ تمہاری زندگی محدود ہے یہ جنتیں محدود نہیں ہیں اور لامتناہی جنتوں کی طرف بلانے کا عمل فضل اللہ کے بغیر ممکن نہیں اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے فضل طلب کرتے رہو اور والله ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیم میں ان وسعتوں سے بھی زیادہ مضمون بیان ہو گیا ہے جو پہلے پیش کی گئی ہیں کیونکہ لفظ عظیم ایک معنی میں اعظم سے بھی زیادہ وسیع لفظ ہے۔اس لئے اللہ کا نام اعظم نہیں رکھا۔خدا تعالیٰ نے خود اپنے نام کو اعظم کے طور پر پیش نہیں فرمایا کیونکہ اعظم میں پھر بھی مقابلہ ہے کوئی چھوٹی چیزیں بھی ہیں۔مگر عظیم میں اصل میں یہ معنی ہے کہ اس کے سوا عظمت ہے ہی کسی کو نہیں۔اعظم اگر کہا جائے تو مراد ہے دوسرے بھی عظیم لوگ ہیں وہ نسبتاً کم عظمت والے ہیں خدا نسبتاً زیادہ عظمت والا ہے مگر عظیم میں ایک ایسی حیرت انگیز شان ہے کہ وہ کامل طور پر عظمت کے مضمون کو سمیٹ لیتی ہے، اس میں مقابلہ کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔وہی عظیم ہے اور کوئی عظیم ہے ہی نہیں ، ہر عظمت اس کی ہے۔اس کے سوا کسی اور کی عظمت نہیں۔حمد وثنا والے مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی مضمون بیان فرمایا ہے اسی رنگ میں کہ عظمت ہے اس کی عظمت۔اب دیکھیں قرآن کریم سے کتنا گہرا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لیکن پڑھنے والا اگر غور نہیں کرے گا تو اسے نہیں سمجھ آئے گی۔عظمت ہے اس کی عظمت سے مراد یہ ہے کہ اور کسی کی عظمت ہے ہی کچھ نہیں۔یہ وہم دل سے نکال دو۔مقابلے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ایک ہی جو عظیم ہے۔تو وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ میں وہ جو وسعتوں والی جنت ہے اس سے بھی زیادہ وسیع تصور پیش فرمایا گیا ہے اور اس تصور نے ایک