خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد 15 759 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء اور مضمون پیدا کر دیا کہ انسان جو اس کائنات کو بہت وسیع سمجھتا ہے اس سے زیادہ اس کا تصور پہنچ ہی نہیں سکتا۔چنانچہ بعض سائنس دان اور اونچے درجے کے حساب دان یہ سمجھتے ہیں کہ حسابی رو سے اس کائنات کے سوا دوسری کائنات ہو ہی نہیں سکتی بس یہی ہے لیکن اب جونئی دریافتیں ہو رہی ہیں ان سے یہ امکانات کھل رہے ہیں اور وہ حیران اور ششدر رہ گئے ہیں کہ یہ کائنات بھی کسی اور طرف متحرک ہورہی ہے ، وسعتوں کے علاوہ کسی اور طرف بڑھ رہی ہے اور وہ کیا چیز ہے جس کی طرف بڑھ رہی ہے۔کوئی کشش ہونی چاہئے اس میں۔اگر ہے تو وہ کیا ہے۔اس کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ت وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ تم کائنات کے حوالہ سے یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ خدا کے پاس بس یہی کچھ ہے جو تمہیں دے گا۔تمام کائنات کی وسعتیں بھی مانگ لو تب بھی خدا کے خزانے ختم نہیں ہوتے اور یہی مضمون ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بعینہ اسی طرح ہمیں سمجھایا۔آپ فرماتے ہیں کہ ساری کائنات بھی اس سے مانگ لو تو اس کے فضلوں میں تو کوئی کمی نہیں آئے گی ، اس کی طاقتوں میں، اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔اتنی بھی نہیں آئے گی جیسے سوئی کو کسی وسیع سمندر میں ڈبو کر باہر نکال لو اس کے ناکے پہ جتنا پانی چھٹا ہو گا اتنی کمی بھی نہیں آئے گی اللہ کے خزانوں میں اگر تم اس ساری کائنات کو مانگ لو تو وَ اللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ نے اس مضمون کو بے انتہا وسعت عطا فرما دی ہے مگر فضل کے طالب ہمیشہ رضا پر نظر رکھا کرتے ہیں۔مغفرت کے ساتھ جہاں رحمت کا تعلق ہے وہاں فضل کے ساتھ رضائے باری تعالیٰ کا تعلق ہے۔اس میں کوئی دلیل نہیں کوئی استدلال نہیں ، ایک انسان کی کوئی ادا کسی کو پسند آ جائے اسے جو چاہے دے جتنا چاہے دے۔اس کا مغفرت سے تعلق نہیں ہے کیونکہ مغفرت میں تو اس کی کمزوری کے نتیجہ میں سزا نہ دینے کا مضمون ہے ، اس کی غفلت کے نتیجہ میں اسے بعض نعمتوں سے محروم نہ کرنے کا مضمون ہے۔فضل کا مضمون اس سے آگے بلند تر مضمون ہے جس میں پسند کی بات ہے۔اب بعض لوگ ایسے بھی ہیں ساری عمر گناہوں میں مبتلا ان کی کوئی ایسی ادا خدا تعالیٰ کو پیاری لگتی ہے کہ سارے گناہ بخش دیئے لامتناہی جنتوں میں داخل کر دیا یہ ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ۖ کے ساتھ تعلق ہے اور اس کے لئے ہمیشہ انسان کو رضا کا طالب رہنا چاہئے۔