خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 757
خطبات طاہر جلد 15 757 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء نقاشی کرتے ہیں۔ان میں محض ہنسی کی بات نہیں بہت سنجیدہ پیغامات ہوتے ہیں۔پس جیسا کہ میں نے ایک دفعہ آپ کے سامنے پہلے بھی بیان کیا تھا ایک اندھے نے ایک سو جا کھے کے ساتھ مل کر، پیسے ڈال کے حلوہ بنوایا اور یہاں کے ملکوں میں تو اس کی کوئی بھی قیمت نہیں ہے مگر غریب ملکوں میں بڑی قیمت ہے کیونکہ وہاں تو شعراء بھی یہ کہتے ہیں کہ ہر روز عید نیست که حلوہ خورد کیسے کہ روز روز عید نہیں ہوا کرتی کہ وہ حلوہ کھائے اور ان ملکوں میں تو اس کا وہم و گمان بھی نہیں آسکتا کہ سال میں ایک دن کسی عید میں بعض لوگوں کو حلوہ ملتا ہے تو میں اس ملک کی بات کر رہا ہوں یہ مغرب کے حافظ صاحب نہیں تھے بلکہ مشرقی ملک کے رہنے والے تھے۔تو انہوں نے بے چاروں نے کچھ پیسے جوڑے، کچھ ایک سو جاکھے نے اور دونوں نے مل کر حلوہ تیار کروایا۔جب کھانے لگے تو کچھ دیر کے بعد حافظ صاحب کو خیال آیا مجھے کیا پتا یہ کتنا تیز کھا رہا ہے۔میں اندھا بے چارہ ، پیسے برابر کے ہیں تو مجھے تیز کرنا چاہئے کچھ۔اس نے ذرا رفتار تیز کر دی جلدی جلدی لقمے کھانے شروع کر دیئے۔تھوڑی دیر کے بعد خیال آیا کہ مجھے کیا پتا کہ وہ ایک ہاتھ سے کھا رہا ہے کہ دو ہاتھ سے کھا رہا ہے تو چلو دونوں ہاتھوں سے کھاتے ہیں۔اس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا اور وہ بے چارہ جو دوسرا تھا وہ حیران ہو گیا حافظ صاحب کو دیکھ کے کہ یہ کر کیا رہے ہیں۔وہ تو کھانا ہی چھوڑ بیٹھا۔وہ دیکھتا ہی رہ گیا۔کھاتے کھاتے حافظ صاحب کو خیال آیا کہ کوئی ترکیب اس نے کی ہوگی مجھے نظر نہیں آرہی۔حلوہ سارا اٹھایا انہوں نے کہا جی باقی میرا حصہ ہے۔تو اندھے کو بھی جو چیز پسند ہے اس میں سبقت کی روح تو ہے نا اور جس کو نظر نہیں آ رہا۔ہم بھی تو اندھے ہی ہیں۔ہمیں نہ اپنے اعمال نظر آرہے ہیں نہ یہ پتا ہے کہ کب مرنا ہے۔زمین و آسمان کی حقیقت سے نا آشنا یہ پتا نہیں کہ کب خدا کی مغفرت نصیب ہوسکتی ہے، کون ساعمل ہے جو اسے پسند آ جائے گا۔تو اس دنیا کے اندھے سے بہت بڑھ کر سبقت کی روح اختیار کریں۔اس میں جنسی کی بات نہیں ہے۔آپ دونوں ہاتھوں سے مغفرت طلب کریں،سارا تھال اٹھا لیں اعمال کا تب بھی محدود ر ہیں گے اور جو مغفرت کا مضمون ہے وہ آگے بہت آگے بڑھ جائے گا۔اس کی جو وسعت ہے وہ وسعت والی مغفرت آپ کے ان اعمال سے نصیب نہیں ہوسکتی وہ فضل سے نصیب ہوگی اور فضل کا وعدہ ہے اگر کوشش کرتے رہو۔تو اگر کوشش کرو کہ اللہ ہمیں ان محدود، گندے ناپاک اعمال کے نتیجہ میں بھی بخش دے تو اس طرف بڑھنے کی ضرورت ہے یعنی اپنے