خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 755

خطبات طاہر جلد 15 755 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء اس کو دس گنا کر دیں سو گنا ، ہزار، لاکھ گنا کر دیں محدود اعمال کی لامتناہی جزا تو عقل میں آہی نہیں سکتی اس لئے اس کا مغفرت سے تعلق ہے اور بہت ہی اہم مضمون ہے۔چھوٹے سے چھوٹے انسان کو بھی ایک حیرت انگیز طور پر خوش خبریوں ، لا متناہی انعامات کی دعوت دے دی گئی اور عظیم سے عظیم انسان کو بھی انکسار سکھا دیا گیا کہ یہ جو عظمتیں اور وسعتیں ہیں یہ تمہیں اللہ کے فضل سے ملیں گی اس کے بغیر تو ممکن نہیں۔چنانچہ اس کے معا بعد یہی فرمایا ذلك فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ ۖ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ یہ باتیں فضل کی ہیں۔فضل جیسے ”جھونگا دیا جاتا ہے ”جھونگے“ کا نام ہے مگر بندوں کے جھونگے اور اللہ کے جھونگے میں دیکھو کتنا فرق پڑ گیا ہے۔بندہ ایک چیز خریدتا ہے اس کی قیمت ادا کرتا ہے اور اس کے ساتھ معمولی سا کچھ اور حاصل کر لیتا ہے جھونگے کے طور پر اور جو رقم دیتا ہے وہ اس چیز کے برابر ضرور ہوتی ہے جو چیز خریدی جارہی ہے۔مگر خدا کے سودے دیکھو بندوں سے کیسے عجیب ہیں۔وہ رقم بھی نہیں دیتا جس سے اس کے عمل کے برابر جزا ئیں مل سکیں۔اکثر اعمال کھو کھلے، ننگے، دھو کے، انسان ساری زندگی غفلت کی حالت میں بسر کر دیتا ہے سمجھتا ہے کہ میں بڑے نیک اعمال کر رہا ہوں ہاتھ پلے کچھ بھی نہیں ہوتا اور اللہ اس گھٹیا سی چیز کو جس میں کچھ نیکی کا عنصر بھی آجائے اس کو قبول فرما لیتا ہے اور پھر جھونگا وہ جولا متناہی ہے۔قیمت وہ جو وصول ہی نہیں ہوئی اور اس کے برابر نہیں دے رہا بلکہ ایسا دے رہا ہے کہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔وہ مضمون، یہ وہ بات ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر یوں کھول دیا۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ یہ نہ سمجھنا کہ تم اپنے اعمال کے نتیجہ میں کچھ بھی حاصل کر سکو گے، مغفرت ہے جس کے نتیجہ میں اعمال نظر انداز ہو جائیں گے۔مغفرت کی چادر یہ نہیں دیکھا کرتی کہ اعمال کیسے ہیں۔جب وہ ڈھانپ لے گی تو ہر کمزوری کو ڈھانپ لے گی اور وہ چادر اتنی وسیع ہے کہ زمین و آسمان کی وسعتوں پر محیط ہے۔اور اب وسعتوں کا حال بھی عجیب ہے۔ان پر آپ غور کریں تو وہ وسعتیں لامتناہی نہیں بلکہ ہمیشہ آگے بڑھتی چلی جانے والی ہیں۔لامتناہی ان معنوں میں ہیں یعنی کہ ہمیشہ آگے بڑھتی چلی جانے والی ہیں۔اب زمین و آسمان اور کائنات کا تصور جس لمحے بھی آپ باندھیں گے کہ یہ اتنا فاصلہ ہوگا اسی لمحے آپ غلط ثابت ہو جائیں گے کیونکہ وہ فاصلے اور بڑھ چکے ہوں گے اور اس تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ انسانی تصور اس کا ادنی سا حصہ بھی پانہیں سکتا کیونکہ ایک سیکنڈ میں اگر آپ لاکھوں