خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 756
خطبات طاہر جلد 15 756 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء حصہ کی رفتار کے ساتھ بھی سوچ رہے ہوں، ایک سیکنڈ کے لاکھویں حصے کے حساب سے بھی تو زمین و آسمان کی وسعتیں اس سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں اور انسان کو ایک سیکنڈ کے لاکھویں حصے میں سوچنے کی طاقت ہی نہیں ہوتی بہت معمولی سے طاقت ہے۔اتنی معمولی سی ہے کہ اگر فلم کو اٹھارہ فریم فی سیکنڈ کے لحاظ سے آگے بڑھایا جائے تو انسانی دماغ یہ معلوم ہی نہیں کر سکتا کہ کھڑی چیز ہے یا چلتی چلی جارہی ہے۔یہ تو اس کی وسعت کا حال ہے اور وعدے وہ دیئے جارہے ہیں جولا متناہی کبھی ختم نہ ہونے والے اور آگے بڑھتے چلے جانے والے۔تو یہ خدا کے مغفرت کے سودے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ بلا رہا ہے۔اس کے لئے سَابِقُوا کا لفظ فرمایا کہ جلدی کرو، ایسی حالت میں نہ مرجانا کہ تمہیں مغفرت نصیب نہ ہوئی ہو۔تم اگر مغفرت کے نصیب ہونے سے پہلے مر گئے تو کچھ بھی ہاتھ میں نہیں رہے گا۔پس بہت ہی اہم مضمون ہے اور اس میں جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نتیجہ میں انسان کے دلوں کو ٹھہرایا گیا ہے ورنہ وہ ہاتھ سے نکل جاتے گناہوں کے تصور سے، ان کو سنبھالا گیا ہے۔وہاں خوف بھی دلایا گیا ہے کہ سنبھلنے کے دن خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنے ہیں جہاں مغفرت کا تصور تمہیں سنبھالے رکھے گا جب آنکھیں بند ہوئیں تو مغفرت کا مضمون ہاتھ سے نکل جائے گا اس سے پہلے پہلے حاصل کر لو اور اس معاملے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تیز رفتاری کے ساتھ مغفرت کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔پس جہاں مغفرت کا مضمون ہے وہاں گناہوں کو جرات نہیں دلائی جارہی بلکہ نیکیوں کو جرات دلائی جا رہی ہے۔یہ بھی عجیب اس کلام الہی کا کمال ہے کہ جب اتنی بڑی مغفرت کا مضمون ہو تو گنہ گار انسان تو یہی سمجھے گا کہ اب میں یہیں بیٹھ رہوں جب مغفرت لامتناہی ہے تو میرے گنا ہوں کی کیا بات ہے میں تو بخشا ہی جاؤں گا۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہا۔متنبہ کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ گناہ چھوڑنے میں جلدی کرو کیونکہ مغفرت کا تعلق گناہ چھوڑنے کی کوشش سے ہے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھو کیونکہ تمہیں پتا کوئی نہیں اس کا وقت کب آئے گا تمہارا وقت کب آئے گا۔اگر اس نے پہلے سے زیادہ کمائیاں کرلی ہوں تم سے زیادہ کمائیاں کرلی ہوں اور تم جلدی مرجاؤ تو تم اس سے بہت پیچھے رہ جاؤ گے اس لئے اس حرص کے ساتھ آگے بڑھو کہ کہیں وہ زیادہ ہی نہ لے گیا ہو مجھ سے۔یہ زیادہ کی تمنا بعض دفعہ لطیفوں کی صورت میں بھی بیان ہوتی ہے مگر وہ لطیفے دراصل انسانی فطرت کی