خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد 15 754 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء آسمان خالی خالی نظر آتے ہیں کوئی جنت ہی نہیں دکھائی دے رہی۔تو اس سوال کا جواب جو انہوں نے دیا، اسی آیت کریمہ میں موجود تھا کہ جب یہ کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی وسعت کے برابر ہے تو ظاہر بات ہے کہ یہ کوئی اور طرح کی چیز ہے جس کے مادی وجود جس سے متصادم نہیں ہوتے۔گویا Dimensions اور ہیں۔ایک ہی وقت میں ، ایک ہی مقام ، ایک ہی وقت کی قدر کو اکٹھا کر دیں تب بھی وہ ایک دوسرے کو دکھائی نہیں دیں گی ، ایک دوسرے سے کوئی تعلق ہی قائم نہیں ہوگا۔میں نے اس کی مثالیں بار بادی ہیں کہ یہاں جو ریڈی ایشن ہے فضا میں اس کی جہتیں مختلف نہیں ہیں۔یہ Four Dimensions Three Dimensions کے اندر ہے۔اس کے باوجود محض اس کی لطافت کے فرق کی وجہ سے ہمیں محسوس نہیں ہوتی۔اگر Dimensions بدل جائیں تو اس کے وجود کا کوئی تصور ہی نہیں ہو سکتا ، اس کی نوعیت ہی نہیں سمجھ آسکتی۔موجود رہے گی مگر کسی پہلو سے بھی انسان اس کو اپنے دائرہ تصور میں کھینچ کر لا نہیں سکتا۔یہ Dimensions کا فرق ہے۔لطافت کا فرق اور ہے۔لطافت کے نتیجہ میں ٹیلی ویژن کی لہریں آپ یہاں نہ دیکھ رہے ہیں، نہ سن رہے ہیں مگر گھر جا کے ٹیلی ویژن ON کریں گے تو آپ ان کو پکڑ لیں گے۔مگر کوئی ٹیلی ویژن ایسی نہیں ہے، نہ ہو سکتی ہے جو دوسری جہت کی اس چیز کو کھینچ لائے جو ہمارے ساتھ ہے مگر ہمیں معلوم نہیں ہے، ہمیں دکھائی بھی نہیں دے رہی ، ہمیں تصور ہی نہیں ہے صلى الله اس کا کوئی۔تو یہ فرق ہیں جو قرآن کریم کی آیات بتاتی ہیں اور ایسا عظیم علم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آئندہ زمانوں کی باتیں ہو رہی ہیں جس کا وہم و گمان بھی انسان نہیں کر سکتا تھا کسی انسان کا کلام ہو ہی نہیں سکتا، یہ ناممکن ہے۔پس اسی آیت کریمہ نے یہ مضمون پیش کیا ہے کہ تین چیزیں ایک دوسرے سے مل گئی ہیں جہنم بھی یہیں ہے ، جنت بھی یہیں ہے اور یہ دنیا جس میں ہم بس رہے ہیں یہ زمین و آسمان یہ بھی یہیں ہیں اور ان کی وسعتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور کیسے ملتی جلتی ہیں ”س“ کے لفظ نے ہمیں دعوت دی ہے کہ غور کریں اور معلوم کریں یہ وسعتیں کیا ہیں اور جو فرق ہے جہنم اور جنت کے درمیان وہ مغفرت کا ہے، صرف اعمال صالحہ کا سوال نہیں کیونکہ اعمال صالحہ اگر اپنی انتہا کو بھی پہنچ جائیں تو جیسا کہ میں نے ثابت کیا ہے ان کی منصفانہ جزا یہ نہیں ہوسکتی۔جتنے اعمال