خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 753
خطبات طاہر جلد 15 753 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء رہتا۔عرض کا معنی میں وسعت کر رہا ہوں کیونکہ عربی لغت میں اس کا ایک معنی وسعت بھی ہے۔بہت سے معانی ہیں ایک معنی قیمت بھی ہے۔اس لحاظ سے اس کا ترجمہ یہ بنے گا کہ اپنے رب کی طرف سے ایسی مغفرت کی طرف آگے بڑھو اور ایسی جنت کی طرف آگے بڑھو جس کی قیمت زمین و آسمان کی قیمت کے برابر ہے۔مگر میں نے جو ترجمہ کیا ہے وہ بھی عربی لغت سے ثابت مگر اس سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کا تصدیق یافتہ ترجمہ ہے کیونکہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ میں سے بعض نے یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی جو وسعتیں ہیں ان تمام وسعتوں پر جنت حاوی ہے یعنی ان سے کم نہیں پوری کی پوری ان پر اتر رہی ہے۔اگر یہ بات ہے تو جہنم کہاں ہے؟ اس کا جواب رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں دیا کہ قیمت ہے یہ مراد جسے تم غلط سمجھ صلى الله رہے ہو۔آپ نے تسلیم کیا اور فرمایا کہ جہنم بھی وہیں ہے لیکن تم سمجھ نہیں سکتے ان باتوں کو۔اس دور کا انسان ابھی اپنے علم میں اتنا آگے ترقی نہیں کر سکا تھا کہ وہ جہتوں کو سمجھ سکتا ہو اور Dimensions جو بڑھ رہی ہیں، انسانی تصور جن پر محیط ہوتا چلا جارہا ہے اس کا کوئی ادنی تصور بھی اس وقت موجود نہیں تھا صرف شش جہات تھیں جن سے وہ جانتا تھا اور ایک وقت کی جہت جس کو وہ شامل کر لے اس کے سوا اس کے سامنے کوئی چیز نہیں تھی اور شش جہات بھی دراصل تین جہات ہیں۔اس کو ہم شش اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا ایک کنارا اگر یوں پھیلی ہوئی جہت ہے تو ایک بائیں طرف پھیلا ہوا سمجھتے ہیں اور ایک دائیں طرف پھیلا ہوا سمجھتے ہیں حالانکہ جو حساب دان ہیں وہ اس کو ایک جہت کہتے ہیں کیونکہ کسی ایک انسان کے حوالے سے تو ہے نہیں کہ وہاں کھڑا ہو تو اس کے بائیں طرف اور اس کے دائیں طرف یہ جہت ہے ، لامتناہی پھیلی ہوئی ہے۔تو جس کو ہم شش جہات اردو میں کہتے ہیں انگریزی میں اس کو Three Dimensions کہتے ہیں اگر وقت کو داخل کر لیں تو Four Dimensions۔تو چار Dimensions میں گھرا ہوا انسان یہ تصور کر ہی نہیں سکتا تھا اس زمانے میں کہ کوئی چیز بھی ہے جہت کے اعتبار سے جو اپنی ضد کے ساتھ ایک جگہ اکٹھی ہو جائے۔اب تین چیزوں کو اکٹھا فرمایا گیا ایک زمین و آسمان اور اس میں ہمیں جنت تو دکھائی دے ہی نہیں رہی کہیں۔اس لئے پہلا سوال تو یہ اٹھنا چاہئے تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ ہے کہاں؟ جنت صلى الله کہاں چلی گئی ؟ ہم تو زمین و آسمان کو صبح بھی دیکھتے ہیں شام کو بھی ، رات، دو پہر اور ہمیں تو یہ زمین