خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 752
خطبات طاہر جلد 15 752 خطبہ جمعہ 27 ستمبر 1996ء ہوگا۔مگر جب یہ بیماریاں بیان کی جاتی ہیں تو مراد یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ان عبارتوں کو پڑھتا ہے وہ اپنے نفس پر ان کا اطلاق کرتا ہوا آگے بڑھے اور جہاں بھی اس کا نفس اس کو متنبہ کرے کہ یہ تو تمہاری تصویر ہے وہاں ٹھہرے اور غور کرے اور پھر فیصلہ کرے کہ کس طرح اس الجھن سے نجات مل سکتی ہے۔اس مصیبت سے کہ انسان ایک گناہ میں پھنس گیا ہے اور نجات کی راہ دکھائی نہیں دیتی اس غیر معمولی خوفزدہ حالت سے نکالنے کے لئے مغفرت کا مضمون ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی مغفرت یعنی اللہ کی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اور مغفرت کی وسعت کے مضامین اور بھی بہت سے بیان ہوئے ہیں۔مگر اس آیت کریمہ میں مغفرت کی وسعت اور عظمت کا جو بیان ہے ویسا اور کسی آیت میں آپ کو نہیں ملے گا کہ مغفرت کو ہر دوسری چیز پر حاوی کر دیا گیا، ہر چیز سے وسیع کر دیا گیا اور جنت ہی کا نام مغفرت رکھ دیا ہے اور اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جنت کسی کے اعمال کے زور سے نصیب نہیں ہوسکتی کیونکہ عقل کے خلاف بات ہے کہ ایک انسان کو اپنے اعمال کی وجہ سے وہ جنت ملے جس کی وسعتوں کی انتہا کوئی نہیں۔انسانی اعمال اگر کامل طور پر اللہ کی رضا کے تابع بھی ہوں تب بھی انسانی زندگی محدود، اس کے عمل کے دائرے محدود اور ایک محدود چیز کی جو اپنی مکانیت کے لحاظ سے بھی محدود ہو ، زمانی لحاظ سے بھی محدود ہو لا متناہی جزا اور ایسی وسعت والی جزا جس کا جنت میں نقشہ کھینچا جاتا ہے یہ عقل کے خلاف بات ہے یعنی اس کا سبب اور نتیجہ کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔سبب بہت ہی محدود ہے اور نتیجہ بہت وسیع اور لا متناہی۔اس لئے اس مضمون کا مغفرت سے تعلق ہے اور مغفرت سے جب تعلق ہوتا ہے تو کمزور آدمی بھی اس میں داخل ہو جاتے ہیں اور بہت بڑے بڑے پاکباز بھی اس میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس پہلو سے جو وسعت جنت کی بیان کی گئی ہے اس مضمون میں بھی وہی وسعت شامل ہو جاتی ہے یعنی یہ وہ مغفرت کی آیت ہے جو ذلیل ترین گنہگار کے اوپر بھی سایہ کئے ہوئے ہے اور وہاں بھی جو انسانی کمزوریاں اس بزرگ نبی کو اپنے اندر دکھائی دیتی ہیں ان پر بھی اس کی رحمت کا سایہ ہے۔تو جہاں وسعتوں کا مضمون ہو وہاں اس سے بہتر انداز بیان اختیار ہونہیں سکتا کہ مغفرت جنت ہی کا دوسرا نام ہے اور مغفرت کا سایہ اتنا وسیع ہے کہ اس سے کائنات کا کوئی پہلو باہر نہیں