خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 742
خطبات طاہر جلد 15 742 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء وو ’۔۔۔ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔۔۔“ ہر وہ شخص جس کو خدا نے دولت بخشی ہے جس کے حالات بہتر بنائے ہیں فرمایا وہ ویسا ہی خدا کے ہاں پوچھا جائے گا جیسے ایک فقیر جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ کیونکہ فقیر کے پاس تو خرچ کرنے کا کچھ ہے ہی نہیں۔اس پر یہ آزمائش آئی ہی نہیں کہ مصیبت زدگان اور غریبوں کو دیکھے اور اس کے باوجود اس کا دل سخت رہے مگر امیر پر تو یہ آزمائش روز آتی ہے اور روز بسا اوقات بعض امیر اس میں ناکام رہ جاتے ہیں۔فرمایا پوچھا جائے گا یہ یا درکھنا کہ تم میں سے ہر ایک پوچھا جائے گا۔فرماتے ہیں:۔۔۔جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا وو ہے اور خدا کے حرام کو ایسی بے باکی سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اس کے لئے حلال ہے۔۔(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ : 71) اب یہ وہ تعریف ہے گئے گزروں کی جواب ہو رہی ہے۔جو کشتی نوح کی تعریف تھی وہ نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے لوگوں کو ان کے مقام سمجھائے جا رہے تھے کہ اس مقام پر ذرا بھی تم نے ٹھوکر کھائی تو اعلیٰ درجے کے لوگوں میں شمار نہیں ہو سکو گے۔اب یہاں بدترین لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ بدترین اگر اس حد تک ہو جاؤ گے جیسا کہ ذکر کیا جارہا ہے تو پھر تمہاری واپسی نہیں۔واپسی نہیں کا مضمون لعنت سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ لعنت کا مطلب ہے دوری اور لعنت جب کسی کو کہا جائے کہ لعنت ہے تو ایک تو جذبات کے غصے کے اظہار کے لئے آپ کہہ دیتے ہیں لعنت۔مگر انبیاء اور عارف باللہ لوگ لعنت کو ان معنوں میں استعمال نہیں کرتے۔لعنت کا وہ جو مذہبی مفہوم ہے وہ یہ ہے کہ وہ خدا سے دور چلا گیا اور اتنا دور ہٹ گیا کہ اب وہ واپس نہیں آسکتا اس کو ملعون کہتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لعنتی زندگی کہہ کر یہ بیان فرمارہے ہیں کہ ان چیزوں میں اگر تم حد سے تجاوز کر گئے تو یا د رکھنا خدا کی تقدیر میں تم لعنتی لکھے جاؤ گے اور پھر تمہاری واپسی کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔فرمایا جو حلال اور حرام کا فرق نہیں کرتا اور حرام کو حلال کی طرح کھاتا ہے اور کتنے ہیں ہمارے مسلمان بھائی جو پاکستان میں ہیں یا باہر ہیں وہ جن کو خدا تعالیٰ نے سب سے زیادہ حلال اور حرام کھول کھول کے بتایا اور دیکھیں کس طرح حرام رزق