خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 741 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 741

خطبات طاہر جلد 15 741 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء یہ بات درست نہ ہوتی تو آنحضرت ﷺ آخری زمانے کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ کبھی نہ فرماتے : مساجدهم عامرة وهى خراب من الهدى (مشكاة المصابيح ، كتاب العلم الفصل الثالث ) کہ نماز میں خدا کے ذکر کی یقینی علامت نہیں ہیں۔یہ خیال دل سے نکال دو کہ تم مسجدیں آباد کئے ہوئے ہو، نمازیں پڑھ رہے ہو اور واقعہ تم ذکر الہی کر رہے ہو۔اگر دنیا میں ذکر الہی کے آثار تم میں ظاہر نہیں ہوتے ، دنیا کی زندگی تمہاری ویسی ہی رہتی ہے جیسی پہلے تھی جیسے مسجد میں داخل ہوئے ویسے مسجد سے باہر نکل آئے۔تو فرمایا مساجدهم عامرة وهى خراب من الهدی آباد تو ہوں گی ان کی مسجدیں اور ہدایت سے بالکل خالی۔کوئی ہدایت نہیں ہوگی ان میں۔تو یہ بھی ایک بڑا اہم مضمون ہے کہ خدا یاد ہی نہ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں حد سے زیادہ خدایا اس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پرواہ ہونا خدا سے لا پر اوہ ہونا تو میں نے آپ کو بتا دیا ہے جس کی مثال آپ کے سامنے رکھی ہے۔اس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پرواہ ہونے کا حال یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جن کو اپنے بچوں ، اپنے قریبی رشتہ داروں کے سوا عامتہ الناس دنیا کی مصیبت اور تکلیف کا احساس ہی کوئی نہیں ہوتا۔وہ بعض بڑے بڑے ریسٹورانٹس میں جہاں مشہور ہیں تکے اور کباب اور بعض جگہ وہ کہتے ہیں یہاں بریانی اچھی پک رہی ہے یہاں فلاں قورمہ اچھا بن رہا ہے وہاں گزر کے جار ہے ہوتے ہیں اور بعض ایسی بستیوں سے گزر رہے ہوتے ہیں جہاں مفلوک الحال لوگ رہتے ہیں اور ان کے اگر بارش ہو جائے تب بیچنے کے سامان نہیں ، گرمی بڑھے تب بیچنے کے سامان نہیں ، سردی بڑھے تب بیچنے کے سامان نہیں اور فاقہ کش بچے گلیوں میں گند میں کھیلتے ہیں کبھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ بھی خدا کی مخلوق ہے ہم نے ان کے لئے کیا کیا ہے۔اگر یہ احساس ہو تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یعنی مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر احساس پیدا ہو کچھ نہ کچھ تو انسان ان کی فکر کرے۔یہ تو نہ ہو کہ بالکل بے نیاز اور بے حس ہو کر ان لوگوں کے پاس سے گزر جاؤ اور تمہیں کبھی خیال ہی نہ آئے کہ تمہارے آرام و آسائش میں ان کا بھی کچھ حق ہے۔تو فرمایا یہ ایک لعنتی زندگی ہے۔