خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 743
خطبات طاہر جلد 15 743 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء پر منہ مارتے ہیں کہ ادنی سا بھی احساس نہیں ہوتا کہ حرام ہے۔ذکر ہی کوئی نہیں اس بات کا۔فرمایا یہ لعنتی زندگی ہے۔اب جتنے مرضی ان کے خلاف اسلام کے فتوے دیئے جائیں وہ فتوے دینے والے خود بھی حرام پر ایسا منہ ماریں جیسے اپنی ماں کے دودھ پر بچہ منہ مارتا ہے تو وہ دوسروں کو لعنت سے کیسے بچاسکیں گے؟ اور رزق حلال کے متعلق اس لئے اور بھی زیادہ زور کی ضرورت ہے کہ یہ وہ فتنہ ہے جو نیکوں میں بھی داخل ہوتا ہے، نسبتاً آسانی سے داخل ہو جاتا ہے کیونکہ مالی منفعتوں سے اس بنا پر رک جانا کہ خدا کے منشا کے خلاف ہیں یہ مشکل کام ہے اور کچھ نہ کچھ انسان نفس کے لئے بہانے ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔چنانچہ آج جو ہماری اردو کی سوال و جواب کی مجلس تھی اس میں ایک صاحب نے یہی سوال کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ناممکن ہے کہ ہم تجارت کریں اور بے ایمانی نہ کریں یعنی تجارت کرنا اور حرام کھانا ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں اس لئے اب بتائیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔مجبور ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ کی پکڑ سے بچنے کے لئے یہ عذر تھا کہ جب وہ حرام سے بیچ ہی نہیں سکتے تو پھر جو مرضی کریں سب کچھ ٹھیک ہے۔ان کو میں نے سمجھایا کہ جس دوست نے آپ سے سوال کیا ہے ، ان کا اپنا نہیں تھا کسی دوست نے بات کی تھی پاکستان سے آیا تھا اور ان سے ملا تھا، ان کو میں نے سمجھایا کہ دیکھیں اگر انسان کا ضمیر گندہ نہ ہو تو ہر قسم کے حالات میں وہ پاک زندگی بسر کر سکتا ہے۔اب یہ درست ہے کہ ایک انسان تجارت میں جتنا بچنے کی کوشش کرے کسی نہ کسی جگہ اسے کچھ تھوڑ اسا اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے بعض دفعہ کچھ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے جسے عامتہ الناس میں لوگ رشوت بھی کہتے ہیں حالانکہ بعض شرائط کے ساتھ وہ رشوت نہیں رہتی۔مگر اس کے علاوہ اور بعض ایسی باتیں ہیں آپ اپنے دودھ دہی کی دکان کریں ، دودھ میں پانی نہ ڈالیں اور اس کے باوجود منافع تھوڑا رکھتے ہوئے بھی آپ گزارہ کریں تو یہ کہہ دینا کہ دودھ میں پانی نہ ڈالیں تو تجارت نہیں چل سکتی کیونکہ سب دنیا دودھ میں پانی ڈالتی ہے یہ ہے ہی غلط کیونکہ دنیا جو پانی ڈالتی ہے اس سے باقی ساری دنیا جو انہی کی دنیا ہے بیزار بھی ہے اور اگر قسمت سے کوئی ایسا دودھ والا مل جائے جس پر آپ کو یقین ہو کہ یہ پانی نہیں ڈالتا تو آپ اس کو دگنی تگنی قیمت دے کر بھی اس سے وہ دودھ لیں گے۔اس لئے یہ خیال کر لینا کہ ایسے لوگوں کی تجارت چلتی ہی نہیں جھوٹ ہے بالکل۔بہت سے ایسے تجربے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ان لوگوں