خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 739 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 739

خطبات طاہر جلد 15 اس کی زد سے نکل نہ سکو۔فرماتے ہیں: وو 739 ’حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے“ خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء (روحانی خزائن جلد 19 صفحہ : 71) حد سے زیادہ عیاشی یہ کیا چیز ہے حد سے زیادہ عیاشی۔عیاشی کا ایک معنی تو ہے جو تن آسانی کی زندگی بسر کرتے ہوئے آرام کی راہیں تلاش کرنا اور ان میں ڈوبے رہنا اور مزید کی ہوس باقی رکھنا کہ جس حد تک بھی ممکن ہے ہم دنیا میں وہ سارے آرام اور عیش حاصل کر سکیں جن کی انسان تمنا کر سکتا ہے۔اس آرزو کو لے کر جو صاحب حیثیت اور امیر لوگ آگے بڑھتے ہیں۔پھر وہ آگے بڑھتے چلتے جاتے ہیں یہاں تک کہ پھر وہ دنیا کے مصائب اور مسائل اور تکلیفوں سے اس وقت تک ناواقف رہتے ہیں جب وہ تکلیفیں ان پر جب تک پڑ نہ جائیں اور آخر پڑ جایا کرتی ہیں۔تو وہ عذاب والا مضمون جب تک ظاہر نہ ہو ان کو ہوش ہی نہیں آتی۔وہ عیش وعشرت میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔تو وہ عیاشی حد سے زیادہ لعنتی ہے جو توازن نہیں رکھتی جہاں واپسی کے لئے انسان اپنی را ہیں کھلی نہیں رکھتا، جب بگٹٹ آگے دوڑا چلا جاتا ہے اور پیچھے مڑ کے نہیں دیکھتا۔تو فرماتے ہیں یہ عیاشی کی زندگی لعنتی زندگی ہے۔’حد سے زیادہ بدخلق اور بے مہر ہونا لعنتی زندگی ہے“ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی نوح میں یہ فرمایا کہ جو اپنے بھائی سے ذرا سا بھی تکبر سے پیش آتا ہے ذرا سا بھی بدخلقی سے پیش آتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اس کا کیا مطلب ہے۔یہ اس کی تشریح ہورہی ہے۔فرمایا ہے وہ جماعت جو میں کہہ رہا ہوں وہ پاکوں کی وہ جماعت ہے جس کی حفاظت کا خدا نے وعدہ کر دیا ہے۔اگر تم میرے ہو جاؤ اور میرے گھر والے بن جاؤ تو اس کے لئے یہ یہ صفات تم میں ہونی چاہئیں۔اب وہ فرمارہے ہیں کہ اگر تمہارے اندر یہ برائیاں اس حد تک قبضہ نہ کریں تو پھر مایوسی کی وجہ کوئی نہیں تم پھر بھی بیچ سکتے ہو۔تو بدخلقی کو پسند تو نہیں فرمار ہے۔حد سے زیادہ بد خلقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اپنی زبان ، اپنی روش اور رویے پر کوئی اختیار بھی نہیں پھر رہتا۔لوگ ایسے بدتمیز ہو جاتے ہیں بعض دفعہ کہ نہ اپنوں سے اخلاق سے پیش آتے ہیں ، نہ غیروں سے پیش آتے ہیں، نہ موقع دیکھتے ہیں نہ محل۔اپنے بچوں سے بھی بد تمیز، اپنی