خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 740
خطبات طاہر جلد 15 740 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء بیویوں سے بھی بدتمیز، اپنے رشتے داروں سے، اپنے بڑوں سے، اپنے چھوٹوں سے اور نا قابل برداشت وجود بن جاتے ہیں۔فرمایا اگر یہ کرو گے تو پھر واپسی نہیں ہوگی۔بدخلقی کے ساتھ اگر شرمندگی کا احساس رہے تو ایسی بدخلقی کو حد سے بڑھی ہوئی بدخلقی نہیں کہا جاسکتا۔بعض بدخلق میں نے دیکھے ہیں بد خلقی سے پیش آتے ہیں اور بعد میں پھر رورو کے معافیاں بھی مانگتے ہیں اور بعض جلدی بعض ذرا دیر میں۔تو بد خلقی خواہ کتنی ہی بڑھی ہوئی ہو اگر کچھ ندامت کا احساس زندہ ہے، کچھ حیا باقی ہو تو ایسی بدخلقی کو انسان حد سے بڑھی ہوئی بدخلقی نہیں کہہ سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تعریف فرما دی کہ حد سے بڑھی ہوئی بدخلقی ، آپ کے الفاظ ہیں سے زیادہ بدخلق اور بے مہر ہونا لعنتی زندگی ہے بے مہر ہونے سے مراد پھر یہ ہے کہ انسان کے دل میں جو خدا نے نرمی اور شفقت رکھی ہوتی ہے وہ اٹھ جاتی ہے اور پھر دل ایسا سخت ہو جاتا ہے کہ پھر اس الله 66 حد پر خدا تعالیٰ کی رحمت نازل نہیں ہوتی۔ایک شخص نے اپنی بیٹی کو زندہ درگور کیا جہالت کے زمانے میں اور بڑی دردناک کہانی ہے۔کس طرح وہ بیٹی پوچھتی رہی کیا ہو گیا تم مجھ پہ کیوں مٹی ڈال رہے ہو۔اس نے توجہ نہیں دی۔بار بار وہ یہ بیان کرتا رسول اللہ ﷺ کے سامنے کہ آواز آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی گئی مٹی میں دیتی چلی گئی۔میں نے کوئی پرواہ نہیں کی نظر اٹھا کے دیکھا تو آنحضرت ﷺ زار و قطار رو رہے تھے۔آنسوؤں کا دریا تھا جو آنکھوں سے بہ رہا تھا اور یہ فرمارہے تھے کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا اور وہ بدنصیب کیسا بد نصیب تھا جس کی زندگی میں اس کی آخرت کا فیصلہ ہو گیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں جو بے مہر ہو جائے ، جس کے دل سے محبت مٹ جائے بنی نوع انسان سے یا خدا تعالیٰ کی مخلوق سے شفقت کو بھول چکا ہو اس کی پھر کوئی نجات نہیں ہے۔وہ عنتی زندگی ہے۔حد سے زیادہ خدایا اس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پرواہ ہو نا لعنتی زندگی ہے۔۔۔66 یعنی خدا یاد ہی نہ رہے اور کروڑوں انسان ایسے ہیں جو مسلمان کہلاتے ہیں اور خدا اپنی عظمت اور اپنی ان صفات کے ساتھ یاد نہیں جو بندوں میں بھی عظمت پیدا کرتی ہے بندوں کی صفات بھی تبدیل کر دیتی ہے۔اس لئے خدا یاد نہیں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ نہیں کہتے۔ان میں بعض نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو مسجدوں کو آباد کئے ہوئے ہیں مگر خدا کو نہیں جانتے خدا سے ناواقف ہیں۔اگر