خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 67
خطبات طاہر جلد 15 67 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء نیکیوں پر عمل اور بدیوں سے بچنے کی طرف توجہ نہیں رہتی۔اس لئے رمضان کا مہینہ مومن کے لئے سب سے زیادہ پر سکون مہینہ ہے ، سب سے زیادہ محفوظ مہینہ ہے۔اس مہینے میں مومن کے لئے کوئی خطرہ در پیش ہی نہیں ہوتا کیونکہ ہمہ وقت اس کی توجہ اس طرف رہتی ہے کہ اس رمضان سے میں نیکیاں کما کرگزروں اور بدیاں جھاڑ کر نکلوں۔پس اس پہلو سے اس حدیث کو سمجھنا چاہئے کہ وہ مومن ہے جس پر یہ سب کچھ ہوتا ہے جس کے لئے یہ سب کچھ ہوتا ہے جہنم کے دروازے بند ، جنت کے دروازے کھلے اور شیطان جکڑ دیا جاتا ہے۔یعنی مومن کا شیطان، وہ شیطان بھی ہے جو اس کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور وہ ہر انسان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔پس آپ دیکھ لیں کہ رمضان کے مہینے میں کتنی ایسی عادتیں تھیں جو نیکی کے اعلی معیار کے مطابق نہیں تھیں مگر اب جب آپ کی وہ عادتیں آپ کو اپنی طرف بلاتی ہیں تو بارہا آپ کے دل سے یہ آواز اٹھتی ہے ”نہیں“۔معلوم ہوتا ہے کہ ایک قید ہے اور بہت سے روزے دار قید کا احساس نمایاں طور پر رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ بھوک کوئی چیز نہیں ہے جو دراصل مشکل ہو۔صبح سحری کھائی اس کا لطف الگ آتا ہے جب افطاری کا وقت آتا ہے تو اس کا ایک الگ لطف ہے۔بیج کا جو وقت ہے وہ بھول جاتا ہے ان دو وقتوں کے درمیان۔جو اصل چیز ہے وہ آزادی کا احساس ہے جس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ہر شخص ہر روزے دار جانتا ہے کہ دن رات جو ہر وقت پابندی میں جکڑے ہوئے وقت گزرتا ہے اور نفس کے اوپر ہمیشہ یہ خیال غالب رہتا ہے کہ دیکھو تم آزاد نہیں ہو۔یہ وہ چیز ہے جو در حقیقت مومن پر ، روزے دار پر بطور قید کے عیاں ہوتی ہے اور یہ شیطان کی قید ہے ورنہ نماز پڑھنے میں تو اس کو کوئی تنگی محسوس نہیں ہوتی قید کی۔نیک کام کرنے میں ، اچھی بات کرنے میں جس کی اس کو پہلے سے ہی عادت ہو وہ بڑی بشاشت محسوس کرتا ہے اس کو کوئی قید محسوس نہیں ہوتی لیکن وہ عادتیں ہیں دراصل جو ظاہری طور پر اس کے سامنے اس کے دماغ میں ابھریں یا نہ ابھریں مگر قید کا احساس بعض ایسی بد عادتوں سے تعلق رکھتا ہے جو پہلے زمانے میں تھیں اور رمضان میں آکر محسوس ہوتا ہے کہ اب میں یہ نہیں کرسکتا۔پس وہ قید شیطان کی قید ہے اور یہاں شیطان سے مراد عام شیطان نہیں ہے کیونکہ عام شیطان ہو تو وہ سب کے لئے جکڑا جائے گا ، عام شیطان اگر جکڑا گیا تو کیا مومن کیا کا فرسب کا شیطان