خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 68
خطبات طاہر جلد 15 68 88 خطبہ جمعہ 26 جنوری 1996ء جکڑا گیا لیکن یہ وہ شیطان ہے جس کا ذکر احادیث میں دوسری جگہ ملتا ہے جہاں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان کی رگوں میں ، اس کے خون میں ایک شیطان دوڑ رہا ہے وہ قید ہو جاتا ہے اور بڑی مشکل سے بعضوں کا وقت گزرتا ہے۔وہ عید میں داخل ہوتے ہیں تو کہتے ہیں چلور ہائی ہوئی لیکن اگر وہ غور کریں تو سوچیں گے کہ بعض بد عادتوں کی طرف لوٹنے کو وہ رہائی کہتے ہیں اور بعض اچھی عادتوں سے بچ نکنے کو وہ رہائی سمجھتے ہیں لیکن انسان بسا اوقات باشعور طور پر اپنے نفس کا جائزہ نہیں لیتا خود اپنے حالات سے بھی بے خبر رہتا ہے اس لئے بس ایک مبہم سا احساس، ایک قید ہے جس میں سے وہ نکل کر پھر آخر عام دنوں میں داخل ہو جاتا ہے۔تو یہ جو شیطان کا جکڑا جانا ہے یہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے ایک پیغام ہے، ایک نصیحت ہے جو گہری نفسیاتی نصیحت ہے۔اس پر غور کر کے اگر آپ اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ شیطان کیا ہے؟ کیسے جکڑا جاتا ہے؟ تو پھر ممکن ہے کہ رمضان کے بعد بھی آپ اس شیطان کو باندھ کر رکھنے کی کوئی تدبیر سوچیں یا ہمہ وقت بیدار رہنے کی کوشش کریں کہ اب جب قید کیا ہے تو پھر قید ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔ورنہ پھر یہ چھٹ جاتا ہے اور اگلے رمضان سے پہلے پہلے وہ ساری عادتیں ڈھا جاتا ہے جن سے بچنے کے لئے رمضان آپ کے لئے اس کی قید کا اور آپ کی رہائی کا پیغام لایا تھا۔دراصل مومن، اعلی درجے کا مومن تو وہ ہے جو مسلسل جکڑا رہتا ہے۔وہ ایک رمضان سے آزاد ہو کر نہیں نکلتا بلکہ قید ہی کی حالت میں جاتا ہے۔یعنی اس کے نفس کی خواہشات کا جہاں تک تعلق ہے وہ قید رہتا ہے۔پس شیطان مومن کے اندر کا شیطان ہے جو قید ہوتا ہے اور وہ قید ہو جائے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے گو یا مومن قید ہے تو وہ آزاد نہیں رہتا۔چنانچہ اسی بات کو آنحضور ﷺ نے ایک اور محاورے میں یوں بیان فرمایا کہ الدنيا سجن للمومنين وجنته الكافر (صحیح مسلم كتاب الزهد والرقائق ) کہ دنیا تو مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے۔اب آپ دیکھیں کہ یہاں شیطان کے لئے نہیں فرمایا بلکہ مومن کے لئے قید خانہ فرمایا ہے۔پس وہی معنی بنتے ہیں جو میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں کہ شیطان کا لفظ ہر شخص کے اندر کے شیطان پر اطلاق پاتا ہے اور