خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 66

خطبات طاہر جلد 15 60 66 خطبہ جمعہ 26/جنوری 1996ء پر رمضان کا مہینہ گزر رہا ہے خواہ مومن ہو یا کا فر ہو اس کے لئے جنت کے دروازے کھل جائیں گے اور جہنم کے دروازے بند ہو جائیں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر مومن بھی ہو یعنی ظاہری طور پر ایمان لاتا ہولیکن رمضان کا مہینہ دیکھنے کے بعد اس کے تقاضوں کے خلاف بات کرے اور عمداً ایسی باتوں کا ارتکاب کرے جو رمضان کے منافی ہیں بلکہ عام دنوں کے بھی منافی ہیں تو ایسے شخص پر تو جہنم کے دروازے زیادہ زور سے کھولے جائیں گے۔دراصل یہ خوشخبری ہے محض ان مومنوں کے لئے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اطاعت کے دائرے میں رہتے ہیں اور قرآن کی اطاعت کے دائرے میں رہتے ہیں۔اصل میں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں مگر قرآن کریم بھی اللہ اور رسول کی اطاعت الگ الگ بیان فرماتا ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ اگر تمہیں براہ راست قرآن کریم میں کوئی حکم دکھائی نہ بھی دے رہا ہو مگر آنحضرت نے وہ حکم دیا ہو تو چونکہ اللہ کے حکم کے سوا وہ بات کرتے ہی نہیں تھے اس لئے یقین جانو کہ آپ کی اطاعت ویسی ہی ہے جیسے اللہ کی اطاعت ہے۔پس اس وجہ سے قرآن کریم بار بار اللہ اور رسول دونوں کی اطاعت پر زور دیتا ہے مگر حقیقت میں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں کیونکہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ رسول خدا کی اطاعت کے سوا کوئی اطاعت نہیں جانتا تھا۔پس اس پہلو سے دروازے جب کھولے جاتے ہیں تو ان پر کھولے جاتے ہیں جو اللہ اور رسول کی اطاعت میں وقت گزارتے ہیں نہ کہ ان لوگوں کے لئے جن پر یہ مبارک مہینہ طلوع ہوا لیکن اس کی طرف پیٹھ پھیر کے اس کے سارے تقاضوں کو جھٹلا دیا، اس کے سارے تقاضوں کو رد کر دیا، ایسے لوگوں پر تو جہنم پہلے سے زیادہ بھڑ کنے کے احتمالات ہیں بجائے اس کے کہ جہنم کے دروازے بند ہوں۔تو امت محمدیہ جو حقیقی معنوں میں اطاعت خداوندی اور اطاعت رسول کی پابند ہو اس کے لئے خوشخبری ہے کہ ان پر دوزخ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے ان پر رمضان کے بعد کیا کھول دئے جاتے ہیں ، رمضان ہی میں بند ہوتے ہیں؟ تو مراد یہ ہے کہ رمضان ان کے لئے اتنی نیکیوں کے پیغام لاتا ہے اور اتنی تقوی کی تعلیم دیتا ہے کہ ان کے لئے ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ کوئی ایسی حرکت کریں جو ان کو دوزخ میں لے جائے مگر عام دنوں میں بے احتیاطیاں ہو جاتی ہیں اور اتنی توجہ ، اتنے انہماک سے