خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 704 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 704

خطبات طاہر جلد 15 704 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء خدا کا مغضوب ہو جاتا ہے اللہ اس کو غضب کی نظر سے دیکھتا ہے۔بظاہر وہ سچ بول رہا ہے ، بظاہر قَوْلًا سَدِيدًا سے کام لے رہا ہے کہتا ہے جی میں نے یہ بھی گناہ کیا ہے وہ بھی گناہ کیا ہے یہ یہ باتیں میرے اندر پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے مجھے شرم سے پسینے آنے لگتے ہیں کہ بظاہر انہوں نے صرف دعا کی درخواست کی ہے مگر یہ بتانے کے شوق میں کہ اتنے اتنے گناہ ہیں وہ حد سے زیادہ تفاصیل بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ گویا بظا ہر سامنے نگے ہو کے کھڑے ہو گئے ہیں اور وہاں غض بصر کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس بات کو دل سے بھلا کر نکال دیا جائے۔ان کو میں سمجھا تا بھی ہوں بعض دفعہ کہ تمہیں خدا نے اجازت ہی نہیں دی۔اپنی کمزوریوں کو جن پر خدا نے ستاری کا پردہ ڈالا ہے ان کو نکال کر باہر پھینکنا یہ قول سدید کے خلاف ہے۔اس لئے قَوْلًا سَدِيدًا اسلامی اصطلاح ہے۔قَوْلًا سَدِيدًا میں جو بات آپ بیان کرنے پر مجبور ہیں اور مختار ہیں خدا کی طرف سے وہاں قَوْلًا سَدِيدًا سے کام لیں۔جہاں آپ کو اپنی اندرونی کمزوریاں اچھال کر باہر پھینکنے کی اجازت نہیں سوائے خدا کے حضور، وہاں وہ قَوْلًا سَدِيدًا نہیں ہے وہ حد سے زیادہ جہالت ہے اور اس لئے خدا نے اجازت نہیں دی یعنی اور باتوں کے علاوہ کہ اس سے فحشاء پھیلتی ہے۔ایک دفعہ اجازت ہو جائے تو ہر انسان اگر اپنا اندرونہ سارا کھول دے تو دنیا اتنی گندی دکھائی دے گی کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ دنیا کتنی گندی ہوگئی ہے اور یہ دنیا کا بڑھتا ہوا گند ہر اصلاح کرنے والے کو مایوس کر دے گا، وہ سوچ بھی نہیں سکے گا کہ اس دنیا کی اصلاح ہوسکتی ہے، وہ کہے گا چلو پھر میں بھی ساتھ ہی بہتا ہوں۔تو فحشاء کا یہ مضمون ہے جس کی روک تھام کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ خوب صورت ستاری کا پردہ اتارا ہے کہ تم چھپے رہو بے شک جہاں تمہاری ذاتی کمزوریاں ہیں اور دکھانے کی اس لئے بھی ضرورت نہیں کہ تم بے حیا ہوتے چلے جاؤ گے اور اگر ظاہر کرو گے تو اور زیادہ بے حیا ہو کر بے دھڑک ان گناہوں میں آگے بڑھ جاؤ گے اور ساری قوم کو بے شرم کر دو گے اس لئے وہاں خدا تعالیٰ نے حکماً روک دیا ہے اور یہ منافقت نہیں ہے ، اس میں گہرا اصلاح کا راز ہے۔پس قَوْلًا سَدِيدًا کا یہ مطلب بھی نہ نکال لیں۔قَوْلًا سَدِيدًا کا مطلب یہ ہے کہ جہاں آپ سے کوئی بات پوچھی جاتی ہے یا جہاں آپ نے بیان کرنی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی بیان کردہ حدود کے دائرے میں ہے وہاں لازماً آپ نے قَوْلًا سَدِيدًا سے کام لینا ہے۔