خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 705
خطبات طاہر جلد 15 705 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء اب اس کی مثال ابھی حال ہی میں ایک شادی بیاہ کا جھگڑا میرے سامنے آیا۔ایک لڑکی جو بیاہی گئی دو دن یعنی دو دن صرف بیاہی گئی ، گھر واپس آگئی۔اس نے کہا مجھے یہ اعتراض نہ ہوتا شاید کہ میرے خاوند کی عمر مجھ سے ہیں سال زیادہ ہے مگر اس نے دس سال بتائی ہے اور نکلی ہیں سال ہے اس لئے ایسے جھوٹے شخص کے ساتھ میں نہیں رہ سکتی۔وہ اسی طرح واپس آ کے گھر بیٹھ گئی اور ایسے واقعات کثرت سے میرے سامنے آتے ہیں۔یہاں چھپانا اس مضمون سے تعلق نہیں رکھتا جو میں نے بیان کیا ہے کہ اپنی کمزوریاں نہیں دکھانی۔عمر کا ظاہر کرنا یہ کمزوری نہیں ہے جس پر خدا نے ستاری کے پر دے ڈالے ہوئے ہیں یہ روز مرہ کے حقائق ہیں اور ان سے روگردانی کرنا اور ان کو چھپانا دوطریق سے ممکن ہے۔ایک یہ کہ انسان سچ بول رہا ہو اور بات ہی نہ کرے، بات گول کر جائے ،عمر کی بات آئے تو ادھر ادھر مونہ کر جائے۔ایسا شخص جو ہے اس کو جھوٹا تو نہیں کہیں گے وہ قَوْلًا سَدِيدًا نہیں ہے اور ایک وہ ہے جو واضح طور پر جھوٹ بول دیتا ہے اس کی ذات کے اندر قول سدید کا تو کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا وہ جھوٹا ہے۔پس جہاں آپ جھوٹ سے نجات حاصل کر رہے ہیں وہاں یا درکھیں کہ ایسے بہت سے معاملات ہیں جہاں قول سدید کی ضرورت ہے اور وہاں ان باتوں کو ظاہر کرنا خدا کے منشاء کے خلاف نہیں، خدا کے منشاء کے مطابق ہے وہاں ستاری کا مضمون داخل ہی نہیں ہوتا اگر وہاں آپ قَوْلًا سَدِيدًا سے کام نہیں لیں گے تو آپ دھو کے باز ہوں گے۔پس جتنے رشتوں کے معاملات ہیں ان میں اکثر صورتوں میں یہی قول سدید کی کمی ہے جس نے بہتوں کی زندگیاں برباد کر کے رکھ دی ہیں۔مجھے ایک لڑکی کا بڑا دردناک خط ملا کہ جو نقشہ کھینچا گیا خاوند کا اتنا اچھا صحت مند ، یہ کرتا ہے ، وہ کرتا ہے اور جب میں گھر آئی ہوں تو شاید مرگی کا مریض ہے جو میرے لئے برداشت کرنا مشکل ہے اور اب میں بے بس ہو چکی ہوں۔اب میرے ماں باپ نے باندھ دیا ہے۔اب یہی میری زندگی ہے جو رہے گی۔کچھ ایسی ہیں جو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ رشتے تو ڑ کر گھر آجاتی ہیں۔کچھ ایسی ہیں جو کہتی ہیں بس اب ماں باپ نے جھونک دیا تو اسی میں اب ساری زندگی کٹے گی تو کتنا بڑا گناہ ہے۔قَوْلًا سَدِيدًا ان معنوں میں ہے کہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سے انہوں نے پوچھا ہی نہیں تھا مگر کوئی یہ تو نہیں پوچھا کرتا ہر ایک سے کہ مرگی کا بیمار ہے کہ نہیں۔جب رشتوں کی باتیں ہوں تو یہ ان