خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 703 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 703

خطبات طاہر جلد 15 703 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء جاتی ہیں۔ایک صاحب فراست انسان جانتا ہے کہ اگر میں بل دینا چاہوں تو بل دے سکتا ہوں وہ جانتا ہے کہ اگر میں بات کو چھپانا چاہوں تو چھپا سکتا ہوں، بے اختیار نہیں ہوتا وہ اور اس کے باوجود وہ وہ راہ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی خاطر جو اس کے لئے کچھ مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہیں، کچھ شرمندگی کا موجب بھی بن سکتی ہیں لیکن ایک بے وقوف تو اس طرح نہیں کرتا۔اس کو تو پتا ہی نہیں کہ کوئی اور راہ ہے بھی کہ نہیں وہ تو بات بنائے بھی تو نہیں بنتی ، بنا سکتا ہی نہیں ہے۔تو میں بے وقوفیوں والے قَوْلًا سَدِيدًا کی طرف آپ کو نہیں بلا رہا بلکہ مؤمنانہ قَوْلًا سَدِيدًا کی طرف آپ کو بلا رہا ہوں۔جہاں آپ کے اندر صلاحیتیں موجود ہیں کہ ہر بات کو سجا کر سلیقے سے پیش کر سکیں مگر جہاں یہ دیکھیں کہ اس میں تقویٰ کا نقصان ہے وہاں بات کو اتنا کہیں جتنا اللہ کے تقویٰ کا تقاضا ہے۔اب یہ فیصلہ کرنا بھی بڑا مشکل کام ہے کیونکہ بسا اوقات انسان اپنے معیار کے مطابق تقوی کو پورا سمجھتا ہی نہیں ہے۔اس لئے جس راستے سے بھی آپ اصلاح کا رستہ اختیار کریں، جس طریق سے بھی اختیار کریں آخرتان دعا پر ٹوٹے گی۔لیکن قَوْلًا سَدِيدًا میں اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ فرمایا ہے جو باقی باتوں میں نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اگر تم سچائی کے دائرے کے اندر یہ باریک راہ اختیار کرو گے جو قَوْلًا سَدِيدًا کی ہے تو میرا وعدہ ہے کہ تمہاری اصلاح کروں گا اور یہ انسانی فطرت کی بات ہے ایک شخص اگر کسی خاص نقص میں مبتلا ہے کسی بیماری کا شکار ہے اور بے وجہ قولًا سَدِيدًا اس کو ہر دفعہ نگا کرنا پڑتا ہے اپنے آپ کو اور شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور جانتا ہے کہ جب بھی اس محل پر ، اس موقع پر مجھ سے کوئی بات ہوگی مجھے یہی بتانی پڑے گی تو ایسا شخص خود اپنے نفس کی شرمندگی کی وجہ سے مجبور ہے کہ اپنی اصلاح کرے یہاں تک کہ اس شرمندگی کے محل سے نکل جائے۔پس يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ میں ایک گہرا انسانی فطرت کا راز ہے جو بیان ہو رہا ہے۔جو شخص اپنی خامیوں کو بہادری کے ساتھ ، جرات کے ساتھ اس حد تک قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس حد تک اللہ نے اجازت دی ہے اور یہ اجازت والی شرط بھی ساتھ ہے ورنہ وہ مؤمنانہ فراست نہیں رہے گی بے وقوفی ہو جائے گی۔بعض جگہ اللہ تعالیٰ نے اجازت بھی نہیں دی کہ تم اپنے گناہوں کا حال لوگوں کو بیان کرتے پھرو۔ایسے شخص کے متعلق رسول اللہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ