خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 702

خطبات طاہر جلد 15 702 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء خامی سے پاک ہے تو میرے اندر خامیاں ہوں گی۔ہوں گی پر بات نہ رہنے دے، تلاش کرے کہ وہ کیا ہے اور جب خامیوں کی نشاندہی کرے گا معلوم کر لے گا کہ یہ یہ خامیاں ہیں تب حمد کا سفر شروع ہوسکتا ہے اس کے بغیر ممکن نہیں ہے پس یہ ان آیات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو مزید واضح اور آسان کر دیا یہ کہہ کر ، یہ نہیں فرمایا کہ سچ بولو فرمایا قول سدید کہو۔اگر تم سچ کے دائرے میں قول سدید کی جو بار یک سڑک ہے اس پر چلتے رہو تو پھر خدا کا وعدہ ہے کہ وہ تمہاری ضرور اصلاح کرے گا اور یہ بہت عظیم وعدہ ہے۔قَوْلًا سَدِيدًا کے متعلق میں پہلے بھی ایک دفعہ خطبے میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں اب جو ہمارے مختلف کام سر پر آپڑے ہیں جو منتظمین ہیں ان کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ قَوْلًا سَدِيدًا سے کام لینا چاہئے اور ایک دوسرے کے دائرے میں دخل دینے سے باز رہنا چاہئے اور اگر دے دیں تو پھر مان لیں کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔بہت سے انتظامی جھگڑے جو انتظامات کے پھیلنے کی وجہ سے میرے سامنے آرہے ہیں ان میں یہ پتا چل رہا ہے کہ قَوْلًا سَدِيدًا کی کمی ہے ابھی۔سچ بولتے بھی ہیں تو قَوْلًا سَدِيدًا کے کام نہیں لیتے۔اگر پکڑے جاتے ہیں تو ضرور بہانے بناتے ہیں کہ نہیں نہیں ہم تو اس وجہ سے اس جگہ دخل دے رہے تھے، یہ ہمارا دائرہ اختیار ہے اس کا نہیں ہے۔تو قَوْلًا سَدِيدًا میں دو باتیں ہیں سیدھی بات کہنا اور سیدھی راہ پر چلنا۔اگر انسان بات سیدھی کہے اور بل اور فریب اس میں نہ دے تو ایسا آدمی جھوٹا ہو ہی نہیں سکتا۔ایسے آدمی دو طرح کے ہوتے ہیں۔بعض حد سے زیادہ بے وقوف اور وہ ہر جگہ اٹھ کے بات کر دیتے ہیں کہ جی ہم تو سچی بات کریں گے اور یہ جو ہے یہ قَوْلًا سَدِيدًا نہیں ہے کیونکہ قَوْلًا سَدِيدًا میں بھی کچھ حکمت کے تقاضے ہوا کرتے ہیں۔یہ مضمون بہت گہرا اور باریک ہے اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ، میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی پہچان متقیوں سے کیا ہے۔ایک ہے وہ بڑی واضح ہے۔وہ لوگ جو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے سیدھی بات کرتے ہیں اور اپنے رشتے داروں عزیزوں کے لئے ہر جگہ ایک مصیبت بن جاتے ہیں شرمندگی کا موجب بنتے رہتے ہیں وہ اور قسم کے لوگ ہیں اور مومن جو اللہ کی آنکھ سے دیکھنے والا وہ جو قَوْلًا سَدِيدًا اختیار کرتا ہے وہ اور طرح کا انسان ہے کیونکہ تقویٰ کے ساتھ فراست کا تعلق ہے اور یہ جو سادہ بات سیدھی ہے اس کا بے وقوفی سے تعلق ہے اور یہ دو باتیں الگ الگ ہیں ، پہچانی