خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 701
خطبات طاہر جلد 15 701 خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1996ء اس وقت خدا کی تسبیح کرو۔اپنے آپ کو خالی کر لو ہر تسبیح سے یعنی یہ یقین کر لو کہ تم غلطیوں سے پاک نہیں ہو۔اللہ ہی ہے جو غلطیوں سے پاک ہے اور یہ اقرار ہے اپنی کم مائیگی کا جو پھر حمد کے مضمون میں داخل کرتا ہے۔غلطیوں سے پاک ہی نہیں، ہر حمد کا حامل وہی ہے مالک وہی ہے وَاسْتَغْفِرُہ اس سے پھر بخشش طلب کرو۔اِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا پھر وہ تمہاری ہر غلطی کو معاف کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور ہر غلطی کو معاف کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے خمیازے سے تمہیں بچائے گا۔یہ مضمون ذہن نشین رکھیں تو اب میں آپ کو بتا تا ہوں کہ اس آیت کا انتخاب میں نے کیوں کیا جس کی میں نے ابتداء میں تلاوت کی تھی۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ تُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ فَوْزًا عَظِيمًا حاصل کرلے گا۔پس ہمارا سر فَوْزًا عَظِيمًا کا سفر ہے اور اس میں تو کل کے مضمون اور اپنی خامیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ لازم ہے کہ ہم اپنی اصلاح بھی ساتھ ساتھ کرتے چلے جائیں اور بغیر اصلاح کے کوئی ارتقاء ممکن نہیں ہے اور جھوٹ کے متعلق جو میں نے جہاد کا اعلان کیا اس اعلان سے جو بھی جرمنی میں میں نے تازہ کیا ہے اس مضمون کا بڑا گہرا تعلق ہے۔جھوٹ نہ بولنا ایک بات ہے اور قَوْلًا سَدِيدًا ایک اور بات ہے۔محض جھوٹ نہ بولنے کے باوجود انسان کی خامیاں اس کی نظر سے غافل رہ سکتی ہیں اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ انسان ایسا ہوشیار جانور ہے کہ بغیر جھوٹ بولے بھی اگلے کو دھوکہ دے دیتا ہے اور بغیر جھوٹ بولے بھی اپنی کمزوریوں پر پردے ڈال لیتا ہے اور جو شخص سچا ہومگر انسانی فطرت کی مجبوری کے تحت وہ سچ کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اپنی خامیوں کو اپنی نظر سے تو نہ چھپائے۔اگر اس کو حیا مانع ہے، شرم مانع ہے تو اول حکم یہ ہے کہ وہ خود اپنی خامیوں کا نگران رہے۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ جب وہ کہتا ہے تو یہ چیز اس کا لازمی حصہ بن جاتی ہے کہ اگر اللہ