خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد 15 683 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء چنانچہ فرماتے ہیں ” دھوبی ہی کو دیکھو کہ وہ ایک ناپاک اور میلے کچیلے کپڑے جب صاف کرنے لگتا ہے تو کس قدر کام اس کو کرنے پڑتے ہیں۔کبھی کپڑے کو بھٹی پر چڑھاتا ہے، کبھی اس کو صابن لگا تا ہے، کبھی اس کی میل کچیل کو مختلف تدبیروں سے نکالتا ہے“۔یہ دھوبی کی مثال بھی بہت ہی بر محل ہے کیونکہ انسان اپنے صاف ستھرے لباس کو داغ دار کر لیتا ہے اور خود کر لیتا ہے۔جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو گویا گل گوہی نے اس شکل میں ڈھال دیا جس شکل میں ڈھالنا اس کو مقصود تھا۔بے داغ ، پاک صاف معصوم ایک صحت مند بچہ ماں کے پیٹ سے جنم لیتا ہے اور جوں جوں انسان کے زیر اثر آتا چلا جاتا ہے اس کی معصومیت داغ دار ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ اس کپڑے کی طرح جسے آپ پہلی دفعہ نیا سمجھ کر پہنتے ہیں تو رفتہ رفتہ اس پر دھبے ڈال دیتے ہیں، کئی طرح کے اس پر نشان پڑ جاتے ہیں اسی طرح وہ بچہ بھی پھر گندہ ہونے لگتا ہے لیکن بہت سے ایسے داغ ہیں جو محنت کے ساتھ دھل جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلے انہی داغوں کی مثال دے رہے ہیں۔اب دھوبی کو دیکھیں وہ بھی صبح صبح اٹھ کر جاتا ہے اور بعض دفعہ تالابوں کے کنارے، بعض دفعہ ہم جہاں قادیان میں ہوتے تھے تو دھوبی ڈھاب پر پہنچا کرتے تھے اور صبح سیر کے وقت کئی دفعہ ان کو دیکھ کر وہیں پاؤں جم جایا کرتے تھے کہ دیکھیں کیا کر رہے ہیں۔وہ کپڑوں کی ایک ڈھیری لے کے آتے تھے جسے پہلے ساری رات وہ سوڈے والے پانی میں ابالتے تھے اور ابالنے کے باوجوداگر اسے عام اسی حالت میں دھو لیں تو پھر بھی داغ نہیں اترا کرتے۔چنانچہ وہ ان کپڑوں کو پٹختا تھا اور مختلف جگہ ان دھوبیوں نے اپنے اپنے پتھر بنارکھے تھے یا پھر اپنار کھے تھے۔بنی بنائی پتھریلی جگہیں تھیں اور پھر وہ ساتھ چھوا چھو“ کی آوازیں نکالتا تھا اور ہر دفعہ اس کپڑے کو پٹختا تھا پتھر کے اوپر اور چھوا چھو، چھوا چھو سارے ڈھاب کے کنارے پر چھوا چھو کے گیت اٹھ رہے ہوتے تھے اور بڑا دلچسپ نظارہ تھا مگر بڑی محنت کرتا تھا وہ اور بار بار پتھر پر پیٹھنے سے پھر وہ داغ کپڑے کو چھوڑ دیتے تھے۔تو گناہوں کے داغوں کی بھی تو ایسی ہی کیفیت ہوا کرتی ہے۔کچھ ہلکے اور کچے داغ ہوتے ہیں۔کچھ کو تو ٹھنڈے پانی سے دھو کر اسی وقت مل دیں تو وہ اتر بھی جاتے ہیں۔تازہ گناہوں کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔داغ جتنا پرانا ہوتا جائے اتنا ہی اس کا دور کرنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔پس اس