خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 682
خطبات طاہر جلد 15 682 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء اگر بصیرت ہو۔تو بصیرت کے ساتھ ساتھ روشنی بڑھتی ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے اور وہ آثار جو پہلے دکھائی نہیں دیتے تھے دکھائی دینے لگتے ہیں۔مگر اس کے باوجود وہ ایک جگہ پہنچ کر اندھے کے اندھے رہ جاتے ہیں کیونکہ آسمان سے نور نہیں ان پر اتر تا اور جب تک آسمان سے نور نہ اترے انسانی بصیرت کی ترقی اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔دنیا کے چند راز اس کو معلوم ہو جاتے ہیں لیکن اصل الحقیقت اس پہ نہیں کھلتی۔وہ گہری بنیادی حقیقت جو تخلیق کائنات میں موجود ہے وہ اسے پوری طرح دکھائی نہیں دیتی۔خدا تک پہنچتے پہنچتے رہ جاتا ہے اور پہنچ نہیں سکتا۔پس اس پہلو سے ایک مومن کی بصیرت اور غیر مومن کی بصیرت میں ایک فرق ہے۔مومن کی بصیرت کے ساتھ آسمان پر سے نور اترتا ہے اور وہ نور اس کو وہ روشنی عطا کرتا ہے جو دنیا کی محنت کرنے والوں کو نصیب نہیں ہوتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گل گوہی کی مثال ہمارے سامنے رکھی کہ گل گوہی کو دیکھو وہ کیسے مٹی کے برتن بناتا ہے اور حسن ظن کا مضمون یہ ہے کہ وہ ایک مٹی کے گولے کو پکڑتا ہے اور یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ اس سے یہ کچھ بن جائے گا جو میں بنانا چاہتا ہوں اور تھکتا نہیں۔وہ مختلف شکلیں دیتا ہے اور لگا رہتا ہے اس کو مزید خوبصورت شکلوں میں ڈھالنے میں اور یقین رکھتا ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔پس مومن جس کے پیچھے خدا تعالیٰ کی مٹی کی تشکیل ایک عظیم تاریخ کے طور پر موجود ہے وہ کیسے مایوس ہوگا۔اگر وہ مایوس ہوگا تو وہ اس روز مرہ کے پتھیرے سے بھی ذلیل اور بدتر ہو جائے گا جو صرف اینٹیں ہی بناتا ہے۔خود جومٹی کا بنا ہوا ایک شاہکار ہو وہ اپنی تشکیل سے مایوس ہو جائے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ تمہیں زیب نہیں دیتا۔مگر اگر آپ بنا کے دیکھنا چاہیں تو اینٹ بھی نہیں پتھی جاسکتی۔پہلی دفعہ آپ کوشش کر کے دیکھیں وہ چار کونوں کی اینٹ کی بجائے یا چار او پر اور چار نیچے کے آٹھ کونوں کی اینٹ کی بجائے وہ چالیس پچاس کونوں کی اینٹ بن جائے گی اور بعض دفعہ اینٹ کی بجائے تھو با بن جائے گا۔تو محنت کرنی پڑتی ہے اور یہ حسن ظن ہو کہ محنت کام آئے گی تو پھر انسان حقیقت میں ترقی کرسکتا ہے،اس کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہر گنہگار کو، ہر اس شخص کو جو خدا کی راہ میں آگے قدم بڑھانا چاہتا ہے دیکھیں کیسی پیاری پیاری مثالیں دے کر سہارا دے رہے ہیں۔فرمایا حسن ظن سے کام لو، محنت کرنی ہوگی ، وقت لگے گا بعض چیزیں ایک دم ہاتھ نہیں آیا کرتیں رفتہ رفتہ ہوگا۔