خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 684
خطبات طاہر جلد 15 684 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء صلى الله مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی زبان میں سمجھیں تو آپ کو بہت سے معرفت کے راز ہاتھ آئیں گے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کو خدا نے جس مٹی سے تشکیل دیا ہے وہ ایک ایسا شاہکار ہے کہ اس کا عام انسان بلکہ بڑے سے بڑا سائنس دان بھی تصور نہیں کر سکتا کہ کتنا عظیم شاہکار ہے۔اس کو تشکیل کے بعد پھر آپ گندا کرنے لگتے ہیں۔اس کی شکلیں بدلنے لگتے ہیں۔بعض دفعہ ایسا مکروہ ہو جاتا ہے کہ پہچانا ہی نہیں جاتا کہ کس ہاتھ کا بنا ہوا تھا اور پھر اس کو داغ دار کرنے لگتے ہیں۔تو جیسے کپڑا داغ دار ہوکر جب پرانا ہو جائے تو پھر وہ داغ نہیں ہٹتے ، کپڑا مٹ جاتا ہے مگر داغ نہیں مٹتے۔وہی حال انسان کا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دھوبی سے بھی نصیحت پکڑو۔وہ دیکھو کتنی محنت کرتا ہے کپڑوں کے داغ دھونے پر اور اگر دیر تک وہ کپڑا دھوبی کے جائے ہی نہ ، اگر اس پر محنت کی ہی نہ جائے تو ایسے کپڑے کے داغ پھر بعض دفعہ اس کا ہمیشہ کے لئے جز بن جاتے ہیں اور ان کا مٹنا اور مٹانا ایک امر محال دکھائی دیتا ہے۔مگر انسان کے لئے اس صورت میں بھی کسی مایوسی کا کوئی مقام نہیں کیونکہ یہ آیت کریمہ یہی بتا رہی ہے کہ اے محمد ﷺ یہ اعلان کر دے کہ اے میرے بندو! اور یہاں بندوں کا جو حوالہ ہے رسول اللہ ﷺ اپنی طرف دے رہے ہیں۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوا عَلَى اَنْفُسِهِمْ تو کہہ دے اے میرے بندو یعنی جو خدا کے عباد میں داخل ہو چکے ہو اور میری غلامی قبول کر چکے ہو، تم میرا دامن تھام چکے ہو اور یہ فیصلہ کر چکے ہو کہ میرے پیچھے چلو گے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میرا رب اتنا عظیم ہے کہ وہ ہر گناہ کو بخشنے کی طاقت رکھتا ہے اور وہی ہے جو گناہوں کو بخشنے کی طاقت رکھتا ہے اور پھر رحیم بھی ہے جو گناہ بخشنے کے بعد پھر بار بار رحم لے کر آتا ہے اور ترقی کے مثبت دور میں داخل فرما دیتا ہے۔پس اس پہلو سے جب آپ اس مثال کو سامنے رکھیں تو اول تو یاد رکھیں کہ جتنی دیر تک آپ اپنے گناہوں پر راضی رہیں گے اور ان کے خلاف جدو جہد کا آغاز نہیں کریں گے اتنا ہی آپ کے لئے ان کو دور کرنا مشکل ، دو بھر یہاں تک کہ ایک وقت میں ناممکن ہو جائے گا یعنی انسانی کوششوں کے بس کی بات نہیں رہے گی۔پھر آسمان ہی سے کوئی فضل نازل ہو تو ان کو دور کر سکتا ہے ورنہ زندگی بھر پھر آپ کو انہی داغوں میں رہنا ہوگا ، انہی داغوں میں دفن ہونا پڑے گا۔پس اس پہلو سے توجہ کریں کہ الله