خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 681
خطبات طاہر جلد 15 681 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء جاتے جاتے میں ٹھہر جایا کرتا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی مثال دی ہے جوحسن اتفاق سے میرے دل پر پہلے ہی بہت اثر انداز ہو چکی ہے۔فرماتے ہیں مٹی کے برتن بنانے والے کو دیکھو۔اس مثال کا انسان کی ذات سے بھی ایک تعلق ہے کیونکہ انسان مٹی سے بنا ہوا ہے اور مٹی سے ایک برتن بنانے والا اس پر جو محنت کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس سے بہت زیادہ محنت کی ہوئی ہے۔کوئی نسبت ہی نہیں اس مٹی سے برتن بنانے والے کی اس خالق ازلی سے۔اس کے ساتھ اس کی کوئی نسبت نہیں جس نے ابتدائے آفرینش سے انسان کی تخلیق کا نقشہ بنایا اور مٹی ہی کو مختلف رنگ میں ترقی دیتے دیتے زندگی کی منازل میں داخل کر دیا۔اب یہ مضمون اتنا وسیع ہے کہ ساری دنیا میں بے شمار سائنس دان اس مضمون کی کھوج میں وقف ہیں لیکن اس کی کنہ کو نہیں پاسکے اور اقرار کرتے ہیں کہ ایک جگہ پہنچ کر گویا آگے ایک چٹان آکھڑی ہوتی ہے اور آگے راستہ نہیں ملتا۔جو راز معلوم کرتے ہیں کچھ دیر کے بعد پتا چلتا ہے کہ یہ راز معلوم نہیں ہوئے تھے بلکہ ایک معمہ معلوم ہوا تھا جو اتنے اور راز ہمارے سامنے ، ان کھلے راز ، وہ راز جو سر بستہ ہوں وہ راز لے کے آیا ہے کہ جسے ہم حل سمجھ رہے تھے وہ تو ایک معمہ بن گیا اور یہ جو میں آپ سے بات کہہ رہا ہوں علم کی بناء پر کہہ رہا ہوں۔میں جانتا ہوں ان سائنس دانوں کو جنہوں نے بعض بڑی بڑی دریافتیں کیں اور بڑے فخر سے اعلان بھی کر دیا کہ اب ہم زندگی کی ابتداء کا راز سمجھ گئے ہیں اور ساری دنیا نے ان کو بہت اٹھایا اور بڑھایا کہ یہ وہ شخص پیدا ہوا ہے جس نے زندگی کی ابتداء کا راز معلوم کر لیا۔دس پندرہ سال بعد وہی سائنس دان یہ کہتا ہے کہ بڑی ہی نا سمجھی تھی جو یہ اعلان ہوا، کچھ بھی معلوم نہیں کر سکے۔جس کو ہم زندگی کے آغاز کا راز سمجھے تھے وہ تو ایک ایسا معمہ نکلا ہے جو بیچ در پیچ اور بھی اپنے خم میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہم اس کو کچھ نہیں سمجھ سکتے۔پس یہ وہ کائنات کا خدا ہے جس نے مٹی سے انسان بنایا ہے اور وہ مٹی کا بنا ہوا انسان خود اپنی حقیقت کو نہیں سمجھ سکا، نہ سمجھ سکتا ہے۔وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میں دیکھوں تو سہی مجھے کیسے بنایا گیا ہے لیکن بہت دیر کے بعد اسے یہ ہوش آئی ہے۔آج وہ مڑ کر دیکھنا چاہتا ہے کہ چار ارب سال پہلے یا ساڑھے چار ارب سال پہلے اس مٹی سے میرا خمیر کیسے اٹھایا گیا تھا۔اگر چہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے آثار کو بھی آج تک باقی رکھا ہے اور ساری جو کہانی ہے انسانی ارتقاء کی وہ ایسی جگہوں پر مرتسم کر دی ہے نقش کر دی ہے کہ آج تک وہ آثار پڑھے جاسکتے ہیں