خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 680 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 680

خطبات طاہر جلد 15 680 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء کرتا ہے اور محنت کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی دیکھنے کی صلاحیت کو روشنی بخشتا ہے۔اس کی بصیرت روشن ہو جاتی ہے، کہیں باہر سے اور کوئی روشنی نہیں آرہی ہوتی اس وقت لیکن وہ لوگ جن کی بصیرت خدا بڑھاتا ہے پھر بسا اوقات ان کے لئے مزید نور کا بھی سامان کرتا ہے۔چنانچہ دونوں طرف سے یہ سلسلہ اس کا مددگار بن جاتا ہے۔دیکھنے کی طاقت بڑھتی ہے اور اس کی مدد کے لئے آسمان سے نور بھی اتر تا رہتا ہے اور قرآن کریم نے یہی دو سلسلے ہیں جن کا ذکر فرمایا ہے کہ اس طرح انسان رفتہ رفتہ نور کی جانب قدم بڑھاتا ہے اور دنیا میں کوئی خدا کے نور کا مظہر ہے تو محمد رسول اللہ ﷺے ہیں۔پس اس پہلو سے جب میں آپ سے کہتا ہوں کہ نور کی جانب قدم بڑھا ئیں تو آنحضرت ﷺ ہی ہمیشہ پیش نظر ہوتے ہیں لیکن نور تک رسائی بہت مشکل ہے سوائے اس کے کہ نور آپ تک پہنچ جائے۔یہ مضمون بہت پیچیدہ اور باریک ہے مگر اس کا سمجھا نالازم ہے۔جب آپ کو یہ مضمون سمجھاؤں گا تو پیچیدہ نہیں رہے گا ، بالکل صاف دکھائی دینے لگے گا۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو ہمارے لئے خود واضح فرمایا ہے۔اہمیت بھی روشن کی ہے اور ساتھ یہ بھی سمجھایا ہے کہ کس طرح مایوس ہوئے بغیر ہمیں رفتہ رفتہ ترقی کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔۔۔۔نہایت ہی بد قسمت ہے وہ انسان جو حق کی طلب میں نکلے اور پھر حسن ظن سے کام نہ لے۔۔۔“ یعنی نیت یہ کر کے نکلے کہ میں نے حق کو تلاش کرنا ہے یا حق تک پہنچنا ہے اور پھر حسن ظن سے کام نہ لے۔یہاں حسن ظن کا کیا معنی ہے؟ فرماتے ہیں ایک گل گوہی کو دیکھو کہ اس کو مٹی کا برتن بنانے میں کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔یعنی وہ جو مٹی کے برتن بنا رہا ہے اس کو کبھی آپ غور سے دیکھیں اور کئی دفعہ میں نے بھی دیکھا ہے اور بہت ہی دلچسپ نظارہ ہوتا ہے وہ بہت ہی جاذب نظر چیز ہے کس طرح ایک مٹی کے گولے کو مختلف شکلوں میں ڈھالتا ، اچانک اس کے اندر سوراخ پیدا کرنا پھر اردگرد وہ نقوش بھرنا۔سکاٹ لینڈ ایک دفعہ ہم گئے تو وہاں رستے میں مٹی کے برتن بنانے والے بہت بڑے ماہرین تھے تو وہاں کھڑے ہو کر دل ہی نہیں چاہتا تھا کہ اس نظارے کو چھوڑ کر آگے جائیں۔ربوہ میں ہمارے ایک مٹی کے برتن بنانے والے تھے ان کے ہاں بھی کئی دفعہ سائیکل پر