خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 679

خطبات طاہر جلد 15 679 خطبہ جمعہ 30 اگست 1996ء مل کر پورے کریں گے۔پس ہر پہلو سے یہ بہت ہی اہم مسئلہ ہے کہ ہم اپنی مہمان نوازی کے خلق کو انفرادی طور پر بھی بڑھا ئیں اور اجتماعی طور پر بھی ایسا منظم کریں کہ اس کے نتیجے میں آئندہ صدیوں میں جو پھیلے ہوئے تقاضے ہیں ان کو ہم بہترین رنگ میں پورا کرنے والے ہوں۔اب میں آپ کو اس آیت کریمہ کے حوالے سے کچھ باتیں کہتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ لَه يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کئے ہیں لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ - اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا اللہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ تمام تر گناہوں کو بخش دے کوئی بھی باقی نہ چھوڑے اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ یقینا وہ وہی ہے جو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا ہے۔اس مضمون کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گزشتہ دنوں میں جب میں آپ کو تقویٰ کی طرف بلانے اور آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے کی نصیحت کرتا رہا ہوں اور شرک سے کلیۂ پاک ہونے کے متعلق آپ کو سمجھا تا رہا ہوں تو بعض دلوں میں ممکن ہے بے حد خوف پیدا ہو گیا ہو اور بعض نے دبی زبان سے مجھے سے اظہار بھی کیا کہ اگر نیکی کے یہ تقاضے ہیں اور اتنی بلندیاں ہیں جنہیں ہم نے طے کرنا ہے اور بعض صورتوں میں ادئی لغزش بھی ہمیں ہلاک کر سکتی ہے۔اگر ہم روز مرہ کی زندگی میں ایک مشر کا نہ حالت میں سانس لے رہے ہیں اور بسا اوقات سمجھے بغیر خدا کی محبت کے مقابل پر دنیا کی محبتوں کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کو دین کے مقابل پر برتر سمجھتے ہیں ،اس کو اولیت دیتے ہیں تو ہمارا بنے گا کیا؟ یہ چیزیں تو وہ ہیں جو ہمیں روز مرہ دکھائی بھی نہیں دیتیں۔نشان دہی کی جاتی ہے تو پھر کچھ کچھ دکھائی دینے لگتا ہے لیکن نظر کا ہر روشنی کے درجے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا محنت چاہتا ہے، یکدم نہیں ہوا کرتا۔آپ باہر سے کسی اندھیرے کمرے میں آئیں تو کچھ دیر کے لئے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہوتا پھر رفتہ رفتہ ایک مدھم سی روشنی ابھرتی ہے وہ پھیل جاتی ہے۔دراصل آپ کی روشنی دیکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ وہ کمرہ جو بالکل اندھیرا تھا اس میں کہیں سے رفتہ رفتہ چھن چھن کر روشنی آرہی ہے اور وہ کمرہ دکھائی دینے لگتا ہے۔تو انسان جب توجہ