خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 678

خطبات طاہر جلد 15 678 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء احمد یہ جرمنی کو خدا یہ توفیق بخش رہا ہے۔جب بعض ان میں سے مجھے ملے میں نے ان کا شکریہ ادا کیا آپ کے متعلق بہت اچھی رپورٹ ملی تو انہوں نے کہا کس بات کا شکریہ۔ہمیں تو بڑا ہی لطف آیا ہے، مزہ آگیا، زندگی کے بہترین دن تھے۔تو چونکہ دل ڈال کر خدمت کی جائے تو وہ مصیبت نہیں بنتی بلکہ خود اپنی جزا بن جاتی ہے۔وہی خدمت انسان کو وہ لطف عطا کر دیتی ہے جو اس خدمت کو ہمیشگی بخش جاتا ہے۔پس تمام دنیا کی جماعتوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس پہلو سے وہ اپنے مہمانوں کے لئے ، آنے والے مہمانوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں اور ان آنے والے مہمانوں میں سب سے زیادہ اہم مہمان اس وقت نو مبائعین ہیں۔نومبا ئعین کا اب سلسلہ ایسا بڑھ چکا ہے کہ ان کے لئے ہمیں وسیع تر انتظامات کرنے ہوں گے۔اب انفرادی کوشش پر ان کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔اگر اتفاقات پر ان کو چھوڑ دیں گے، انفرادی کوشش پر چھوڑ دیں گے تو ایک بھاری تعداد ان میں سے ایسی رہ جائے گی جن کو پوچھنے والا ، دیکھنے والا کوئی نہیں رہے گا اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جو تالیف قلب کی ہدایت دیتا ہے، مؤلّفة القلوب بیان کرتا ہے ان لوگوں کو ، یہ وہ لوگ ہیں جو ابتدائی دور میں اگر محبت پالیں تو ہمیشہ کے لئے آپ کے ہو جائیں گے۔اگر ابتدائی دور میں ان سے سردمہری کا سلوک ہو اور ان کا کوئی نہ ہو جو انہیں اپنا سکے اور سینے سے لگا سکے تو بعید نہیں ہوتا کہ یہ لوگ آہستہ آہستہ سرک یا پیچھے ہٹ جائیں یا اپنی ایک بے عملی کی سی حالت میں ٹھنڈے پڑ جائیں اور جیسے لوہا گرم ہوتو اس وقت اسے شکلیں عطا کی جاتی ہیں اور ٹھنڈا ہو جائے تو وہ شکلیں قبول کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔پس یہی دور ہے جبکہ آپ کی مہمان نوازی کا خلق ایک ایسے اجتماعی رنگ میں ان آنے والے مہمانوں کے دل جیتنے والا بنے جس کے ساتھ منصوبہ ضروری ہے۔پس تمام جماعتوں کو اس پہلو سے منصوبہ بنانا چاہئے کہ کثرت سے آنے والے نئے احمدیوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہے جسے جماعت احمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان کے طور پر سر آنکھوں پر نہ لے اور جس کی خدمت ایک دلی جذبے سے نہ کرے۔یہ کچھ دیر کی بات ہے۔یہ مہمان وہ ہیں جو چند دنوں میں میزبان بننے والے ہیں۔اگر پہلی زندگی کے چند مہینوں کے تجربے میں یا زیادہ سے زیادہ ایک سال کے تجربے میں یہ آپ کے حسن خلق سے متاثر ہو گئے ، آپ نے ان کی خدمتیں کیں تو ان میں ایسے پیدا ہوں گے جو آپ سے بڑھ کر خدمت کرنے والے ہوں گے اور آنے والے وقتوں کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو یہ آپ کے ساتھ شانہ بشانہ