خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 673
خطبات طاہر جلد 15 673 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء جماعت احمدیہ کے پھیلنے اور نشو و نما کا جماعت احمدیہ کے خلق مہمان نوازی سے ایک گہرا تعلق ہے۔( خطبه جمعه فرموده 30 راگست 1996ء بمقام نوئے فارن میونخ۔جرمنی ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ پھر فرمایا: (الزمر: 54) یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس تعلق میں میں انشاء اللہ مضمون کو واضح کروں گا اور حضرت اقدس مسیح موعود کے ایک اقتباس کے حوالے سے آپ کو کچھ نصیحتیں کروں گا لیکن سردست میں اس خطبے کا آغاز جماعت احمدیہ جرمنی کے اس دورے کے تاثرات سے کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سفر ہر پہلو سے بابرکت رہا اور جماعت احمد یہ جرمنی کومختلف پہلوؤں سے دیکھنے اور جانچنے کا موقع ملا اور میں بڑے ہی اطمینان کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حضور جذبات تشکر کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ امسال بھی حسب سابق جماعت جرمنی کا قدم میں نے ترقی کی طرف دیکھا ہے اور ہر پہلو سے خدا تعالیٰ کے فضل سے کمزوریاں دور کرنے اور نیا حسن پیدا کرنے کی طرف توجہ مسلسل جاری رہی ہے۔چنانچہ جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے والے جتنے بھی بیرونی مہمان تشریف لائے تھے وہ گواہ