خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 674
خطبات طاہر جلد 15 674 خطبہ جمعہ 30 راگست 1996ء بھی ہیں اور میرے سامنے ذکر بھی کرتے رہے کہ جتنا ہم نے سنا تھا اس سے بہتر پایا اور ہمہ تن مصروف ہو کر ، دن رات ایک کر کے جماعت جرمنی نے ہر پہلو سے اتنا اعلیٰ معیار قائم کیا ہے کہ بعض لوگ کہتے تھے کہ ہم تو رشک سے دیکھتے رہے۔ہم سمجھتے تھے کہ ہم بہت بہتر کام کرنے والے ہیں مگر یہاں اس سے بھی بہت اچھا کام دکھائی دیا۔خاص طور پر اس دفعہ جلسہ سالانہ کی صفائی کا معیار بہت ہی غیر معمولی طور پر بلند تھا اور ساتھ ساتھ صفائی اس طرح جاری تھی کہ صفائی کرنے والے دکھائی نہیں دیتے تھے مگر صفائی دکھائی دیتی تھی اور بڑی ہی خاموشی اور نظم وضبط کے ساتھ غالبا راتوں کو جب مہمان فارغ ہو جاتے تھے اس وقت بھی وہ صفائی کرتے تھے اور دوران جلسہ بھی مسلسل صفائی جاری رہی۔علاوہ ازیں خدمت کا جہاں تک تعلق ہے بہت بڑی خدمتیں ان کے سپرد تھیں مثلاً بیرونی مہمانوں کے علاوہ جماعت جرمنی میں جو نئے احمدی ہوئے ہیں ان کی خدمت کے تقاضے کافی پھیلے ہوئے تھے۔ان میں عرب بھی تھے، ان میں افریقن ممالک سے تعلق رکھنے والے بھی تھے، ان میں مشرقی یورپ کے مختلف قوموں کے لوگ بھی تھے اور وہ بھی جو مستقلاً جرمنی میں بستے ہیں لیکن دوسرے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر ایک کا انتظام بہت ہی عمدہ کیا گیا اور جوٹیم بھی جس کام پر مامور تھی اس نے نہایت ذمہ داری کے ساتھ بلکہ ذمہ داری سے بڑھ کر دل لگا کر اپنائیت کے ساتھ خدمت کی۔چنانچہ ہمارے ساتھ جو قافلے کے لوگ مختلف جگہوں پر ٹھہرے ہوئے تھے ہر ایک کا یہی تاثر ہے۔انگلستان میں بھی خدا کے فضل سے خدمت کا معیار بڑھ رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی عزت کی جاتی ہے۔بہت احترام کے ساتھ ، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جاتا ہے لیکن ایک فرق ہے کہ اکثر وہ مہمان جو انگلستان میں خصوصاً لندن میں جلسے کے دنوں میں ٹھہرتے ہیں وہ زیادہ تر رشتے داریوں کی وجہ سے اور پرانے تعلقات کی بناء پر ٹھہرتے ہیں اور اس وجہ سے ان کے ساتھ جو حسن سلوک ہے وہ محض ایک مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان کے تعلق سے نہیں ہے۔وہ تعلق نہ بھی ہوتا تو رشتے داروں کی خدمت کرنا ہمارے مشرقی معاشرے کا حصہ ہے اور ایک طبعی ذوق کے ساتھ دونوں طرف لطف اٹھاتے ہوئے یہ خدمتیں کی جاتی ہیں مگر یہاں جو میں تجربہ بیان کر رہا ہوں جن خاندانوں کو ہم نے جن خاندانوں میں ٹھہرایا ان کا کوئی بھی رشتے کا تعلق نہیں تھا۔بہت سی سیر گاہوں پر بھجوایا وہاں بھی وہ پہلے واقف ہی نہیں تھے ، اجنبی تھے