خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 669 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 669

خطبات طاہر جلد 15 669 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء باتیں تھیں جو آپ کی بیعت کر رہے ہیں ان میں وہ باتیں نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا کہ جو وہ بیعت کرنے والے تھے وہ اور تھے اور جو میری بیعت کرنے والے ہیں وہ اور ہیں اس پر تو غور کرو۔تو ہر بیعت کرنے والے کا اپنا مقام اور مرتبہ بھی ایک ہے، اس کا اپنا اخلاص بھی ہے۔پس لازم نہیں کہ جس کی بیعت کی جائے اسی کا قصور ہو کہ تم بیعت تو کرتے ہو مگر فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔تمہارا بھی قصور ممکن ہے۔ممکن ہے تم نے پورے خلوص کے ساتھ اپنی سرسبز شاخوں کو اس کے ساتھ پیوند کے لئے آگے نہیں بڑھایا بلکہ ایک خشک ہاتھ بڑھایا ہے گویا خشک ٹہنی کا پیوند اس سے کر دیا۔پس یہ بہت ہی وسعت والا مضمون ہے اور یہی حقیقی ہجرت ہے۔روحانی ہجرت کی اس سے بہتر تمثیل ممکن نہیں کیونکہ جب آپ آم کے ایک پودے کو اکھیڑتے ہیں ایک جگہ سے خواہ اس کی کیسی ہی بدصفات کیوں نہ ہوں جب اس کو زمین سے اکھیڑتے ہیں اور اس کی شاخ کو کسی ایسے سرسبز آم کی شاخ سے پیوند کر دیتے ہیں جو آم تو ہے لیکن مختلف صفات کا آم ہے ، اعلیٰ درجے کی صفات کا آم ہے تو اس سے جو آم پیدا ہوتے ہیں وہ وہی مزہ رکھتے ہیں، وہی رنگ و بور رکھتے ہیں جو اس آم کے ہیں جس کے ساتھ پیوند کیا گیا بشرطیکہ وہ شاخ جو کائی گئی تھی یا جو پودا اکھیڑ کر دوسری جگہ لے جایا گیا تھا اس کے اندر خلوص نیت ہو یعنی مالی نے خلوص نیت کے ساتھ، احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے یہ پیوند کیا ہو۔اگر ایسا ہوتو پھر لازمآوہ صفات تبدیل ہو جاتی ہیں اور نئی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔اب آموں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ہمارے قادیان کے باغ میں جو حضرت مصلح موعودؓ نے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے شوق سے لگوایا تھا اس میں ایک سوسترہ یا اس سے کچھ زائد قسمیں تھیں اور ساری پیوند تھی۔اگر کوئی یہ کہے کہ میرا پیوند جب تک خاص الخاص‘یا شمر بہشت سے نہ ہو ویسے ہی ٹھیک ہوں تو اس کی بڑی جہالت ہوگی۔اس لئے اگر آج کوئی یہ کہے کہ پہلے خلفاء نہیں رہے جن کے تقدس اور علو مرتبت کا یہ حال تھا اس لئے ہمیں اس خلیفہ کی بیعت کی کیا ضرورت ہے تو ویسا ہی جاہل ہوگا کیونکہ خلفاء آپس میں ، مرتبہ میں ویسی ہی کمی بیشی رکھتے ہیں جیسے انبیاء خدا کے نزدیک کمی بیشی رکھتے ہیں۔فرمایا تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (البقره:254) یہ وہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض دوسروں پر فضیلت بخشی ہے۔پس کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ پہلے رسول ابراہیم کو تو یہ عظمت تھی اس لئے اس کی بیعت کی گئی ، اب