خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 668 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 668

خطبات طاہر جلد 15 668 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء کرے گا۔یہ ایک اور پہلو اس مضمون سے نکلتا ہے جو بہت ہی گہرا اور بہت ہی دل دہلا دینے والا پہلو ہے۔حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک لڑکا جو بارش ہو رہی تھی پھسلن تھی بے دھڑک اس میں دوڑا چلا جارہا تھا۔آپ نے اس بچے کو آواز دی اور فرمایا میاں احتیاط سے پھسلن ہے، کہیں گر نہ جانا۔وہ بچہ حیرت انگیز طور پر ذہین تھا اس نے حضرت امام ابوحنیفہ کی طرف دیکھا، اس نے کہا امام صاحب! میں گرا تو میں ہی گروں گا آپ احتیاط سے قدم رکھیں کیونکہ آپ گرے تو ایک زمانہ گر جائے گا، آپ کے ساتھ بہت سی زندگیاں وابستہ ہیں۔کتنا حیرت انگیز مضمون ہے جو اس لڑکے نے اپنی حاضر جوابی کے نتیجہ میں حضرت امام ابوحنیفہ کے سامنے رکھ دیا اور ہمیشہ وہ اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مضمون بیان فرمایا ہے یہ بہت ہی وسیع ہے اس کا ایک پہلو یہ ہے۔مگر جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے کھولا ہے بہت ہی وسعت رکھنے والا مضمون ہے۔جو مسائل بڑے بڑے دانشوروں سے حل نہیں ہو سکے کہ بیعت اگر ایک ہی ہے تو پھر فرق کیوں پڑتے ہیں۔بیعت اگر ایک ہی ہے تو نبی کی بیعت اور کیوں ہے ،خلیفہ کی بیعت اور کیوں ہے،ایک خلیفہ کی بیعت کیوں اور ہے دوسرے کی کیوں اور ہے ،مجدد کی بیعت ایک اور رنگ کیوں رکھتی ہے۔یہ سارے مسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مختصر تحریر میں کھول دئے اور ایک اور مضمون ہم پر یہ روشن کر دیا ہے کہ تم اگر بیعت سے استفادہ نہیں کرتے لازم نہیں کہ قصور اس کا ہے جس کے ہاتھ پر تم نے بیعت کی ہے کیونکہ اگر تم نے اپنا پیوند صحیح نہ باندھا، اگر سچائی اور خلوص کے ساتھ بیعت نہ کی اگر تم اس عہد بیعت پر کامل خلوص اور وفا سے قائم نہ رہے اور جس کی بیعت کر رہے ہو اس سے پیار اور محبت کا سچا گہرا تعلق نہ رکھا تو پھر وہ بیعت تمہیں فائدہ نہ دے گی بلکہ پیوند ہونے کے باوجود وہ صفات تم میں سرایت نہیں کریں گی۔جہاں تک درجہ بدرجہ صلاحیتوں کا مضمون ہے یہ تو ایک ایسا مضمون ہے جس میں کوئی بھی ایسی لکیر نہیں کھینچی جاسکتی کہ جس سے یہ کہا جائے کہ اس مقام پر آکر کوئی بیعت لینے والا بیعت لینا چھوڑ دے کیونکہ اس کا وہ مرتبہ نہیں جو پہلوں کا مرتبہ تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے ایک منافقانہ حالت میں کہا کہ لوگ جو محمد رسول اللہ ﷺ کی بیعت کرتے تھے ان کے اندر تو یہ یہ