خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 654
خطبات طاہر جلد 15 654 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء جو حقیقی اور اصلی اور آخری بیعت ہے لیکن اگر تمہیں اس کی قدر و قیمت معلوم نہ ہو تو تمہاری یہ بیعت تمہیں فائدہ نہیں دے گی اور اس بیعت کی تم حفاظت نہیں کر سکتے۔فرماتے ہیں جس چیز کی قدر و قیمت معلوم ہو انسان اسی نسبت سے اس کی حفاظت کرتا ہے پس بیعت کی قدرو قیمت معلوم ہونی چاہئے۔فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے۔فرماتے ہیں: جیسے گھر میں انسان کے کئی قسم کے مال واسباب ہوتے ہیں مثلاً روپیہ، پیسہ، کوڑی لکڑی وغیرہ تو جس قسم کی جو شئے ہے اسی درجے کی اس کی حفاظت کی جاوے گی۔ایک کوڑی کی حفاظت کے لئے وہ سامان نہ کرے گا جو پیسہ اور روپیہ کے لئے اسے کرنا پڑے گا اور لکڑی وغیرہ کو تو یونہی ایک کو نہ میں ڈال دے گا۔علیٰ ہذا القیاس جس کے تلف ہونے سے اس کا زیادہ نقصان ہے اس کی زیادہ حفاظت کرے گا۔۔۔“ پس تم معلوم کرو کہ تمہاری جتنی بھی قیمتی اشیاء ہیں جو سب سے زیادہ تمہیں عزیز ہیں ان میں سب سے بیش قیمت سب سے بالا قیمت وہ کیا چیز ہے۔فرمایاوہ عہد بیعت ہی ہے پس اگر تمہیں معلوم ہو کہ اس کی قدرو قیمت کیا ہے تو تم اس کی سب سے زیادہ حفاظت کرو گے اور قدرو قیمت کے نہ معلوم ہونے کے نتیجے میں انسان اپنے عہد بیعت کی سب سے کم حفاظت کرتا ہے اور بسا اوقات انسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو بیعت کرنے کے باوجود اس کی حفاظت پر نگاہ ہی نہیں رکھتے اور بنیادی مرکزی وجہ جو انسانی فطرت پہ گویا مرتسم ہے لکھی ہوئی ہے وہ اس کی قدرو قیمت کا نہ جاننا یا اس کی قدرو قیمت کے احساس کی کمی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔۔۔اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات تو بہ ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں تو بہ اس حالت کا نام ہے کہ انسان اپنے معاصی سے جن سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے گویا کہ گناہ میں اس نے بود و باش مقرر کر لی ہوئی ہے ( تو تو بہ کے معنے یہ ہیں کہ ) اس وطن کو چھوڑنا اور رجوع کے معنے پاکیزگی کو اختیار کرنا۔۔۔“ پس ایک انسان ظاہری طور پر بھی اپنے وطن کو چھوڑتا ہے۔فرمایا ہے جب تم بیعت کرتے ہو تو