خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 655
خطبات طاہر جلد 15 655 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء یا درکھو ایک وطن کو چھوڑتے ہو اور اس کا حقیقی نام تو بہ ہے اور رجوع اس وطن کو چھوڑ کر دوسرے وطن کی طرف ہجرت کا نام ہے۔پس چونکہ جماعت جرمنی دنیا کی سب ہجرت کرنے والی جماعتوں سے تعداد میں زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں ہجرت کی پاک علامتیں بھی ظاہر ہورہی ہیں اس لئے آپ کے اس اجتماع کے لئے اور اس خطبہ کے لئے بھی میں نے اسی مضمون کو اختیار کیا ہے۔فرماتے ہیں:۔۔۔اب وطن کو چھوڑ نا بڑا گراں گزرتا ہے اور ہزاروں تکلیفیں وو ہوتی ہیں۔ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدرا سے تکلیف ہوتی ہے اور وطن کو چھوڑنے میں تو اُس کو سب یار دوستوں سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے۔۔۔“ اب دیکھیں آپ میں سے کتنے ہیں جن کے عزیز پیارے رشتہ دار سال ہا سال سے ان سے جدا ہیں، بعضوں کی مائیں وفات پاگئیں۔ان کی جدائی میں بعضوں کے باپ فوت ہو گئے تو ہجرت کا جو ظاہری مضمون ہے اس کو آپ سے زیادہ اور کون بہتر جانتا ہے۔بہت بڑی بڑی تکلیفیں جذباتی تکلیفیں ایسی کہ بعض خاندان مجھے ملتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ آٹھ سال ہو گئے ہیں نہ ماں باپ کا منہ دیکھ سکے، نہ بیوی بچوں کا اور یہ کہتے کہتے ان کی آنکھیں بھرا جاتی ہیں ، بہت لمبا تکلیف کا زمانہ ہے جو انہوں نے دیکھا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ظاہری ہجرت کے حوالے سے آپ کو روحانی ہجرت کے راز سکھا رہے ہیں: وو۔۔۔ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدرا سے تکلیف ہوتی ہے اور وطن کو چھوڑنے میں تو اُس کو سب یار دوستوں سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور سب چیزوں کو مثل چار پائی ، فرش و ہمسائے ، وہ گلیاں کوچے ، بازار سب چھوڑ چھاڑ کر ایک نئے ملک میں جانا پڑتا ہے۔۔۔“ دیکھیں کتنی تفصیل سے آپ نے ہجرت کے مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔گلیاں، کوچے ، چار پائیاں تک بیان فرما دیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ وہ جن کو ہجرت کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ گھر کی چار پائیاں خواہ کیسی بوسیدہ ہی کیوں نہ ہوں وہ گلیاں بازار خواہ کیسے ہی غریبانہ کیوں نہ ہوں جن میں ان کا بچپن کھیلتے ہوئے گزرا وہ پیاری رہتی ہیں اور ہمیشہ پیاری رہتی ہیں، کبھی بھول نہیں سکتے۔یہ وہ تعلقات ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہوئے پھر آپ کا رخ روحانی ہجرت کی طرف موڑیں گے۔