خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 653

خطبات طاہر جلد 15 653 خطبہ جمعہ 23 راگست 1996ء مضمون پر کبھی اسلامی لٹریچر میں اس سے زیادہ مفصل سیر حاصل اور گہری گفتگو نہیں فرمائی گئی قلم نہیں اٹھایا گیا جیسے حضرت مسیح موعود نے یہ قلم اٹھایا ہے۔وہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی تھی اس کا بنیادی تعلق بیعت سے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ لَه اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں وَاَمْوَالَهُمْ اور ان کے اموال بھی خرید لئے ہیں اور یہ سودا اس بات پر ہے کہ ان کو جنت عطا کی جائے گی۔اب یہ جانوں اور اموال کا سودا کیا چیز ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اسے حقیقی توبہ قرار دیتے ہیں۔فرماتے ہیں تو بہ کا اصل مضمون وہی ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے تو بہ کے نتیجہ میں جو بچی تو بہ ہو انسان اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے اور اس کے بدلے اپنی جان بخشوا تا ہے۔جو اس کے اعمال گزشتہ میں سرزد ہوئے جو کچھ وہ کارروائیاں کرتا رہا جب تو بہ کرتا ہے اور خدا سے عہد بیعت کرتا ہے تو گویا اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر کے اپنی جان کی بخشش چاہتا ہے اور یہ وہ مضمون ہے جو اس دنیا میں تو ممکن ہے مگر مرنے کے بعد پھر یہ ممکن نہیں ہوگا کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ مرنے کے بعد وہ لوگ جو پکڑے جائیں گے وہ چاہیں گے کہ اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیں۔یہاں تک کہ مائیں اپنی بیٹیاں، اپنی اولاد بھی پیش کریں گی لیکن کچھ بھی مقبول نہیں ہوگا کیونکہ وہ وقت گزر چکا ہے۔پس وہ وقت جو مرنے کے بعد آنا ہے جب ہم سے ہماری ملکیت واپس لے لی جائے گی یا خدا اپنی ملکیت ہم سے واپس لے لے گا اس وقت کوئی تو بہ نہیں ہے۔زمین و آسمان تمام کائنات کا سب کچھ بھی دے کر ہم اپنی جانوں کو چھڑا نہیں سکیں گے۔آج اس دنیا میں ،اس زندگی میں یہ وقت ہے کہ ہم ایسا کریں اور اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا قطعی وعدہ ہے فرماتا ہے تم یہ کرو اور تمہاری تو به قبول کرنا تمہیں بخشا میر ازمہ ہے۔یہ قطعیت کے ساتھ وعدہ اس آیت میں دیا گیا ہے۔اس سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بیعت میں جاننا چاہئے کہ کیا فائدہ ہے اور کیوں اس کی ضرورت ہے؟ جب تک کسی شئے کا فائدہ اور قیمت معلوم نہ ہو۔تو اس کی قدر آنکھوں کے 66 اندر نہیں سماتی۔۔۔“ فرمایا تم بیعت تو کرتے ہو اور قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ اسی بیعت کی طرف بلا رہی ہے