خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد 15 635 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء قرآن کریم سے صاف پتا چلتا ہے کہ غصے کی حالت میں جب غلبہ ہو کسی وقت کسی جنون کا اس وقت انسان بیان کرنے کی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے۔فی الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينِ (الزخرف: 19) اور غصے کا مضمون خصام کے لفظ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔فرمایا جب یہ عورتیں جھگڑا کرتی ہیں تو کھل کر بات نہیں کر سکتیں یا انسان جو بھی ہوں سب پر یہ برابر مضمون آتا ہے کہ جب وہ جھگڑنے کے موڈ میں ہوں تو چونکہ غصے کی حالت میں جھگڑا پیدا ہوتا ہے اس لئے وہ بیان کی طاقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔تو بیان کو صرف ظاہری کلام پر محمول کرنا غلط ہے۔بیان اس اندرونی طاقت کا نام ہے جو کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرتی ہے اور اگر یہ طاقت ہے تو ہر انسان کو قطعیت سے معلوم ہو جانا چاہئے کہ میرا مسلک درست ہے کہ غلط ہے۔اگر نہیں ہوتا تو نفس کا بہانہ ہے اور نفس کا بہانہ ہے جو چیز کو خوب صورت دکھاتا ہے اور نفس کے بہانوں کے باوجود انسان اپنی غلطی کو سمجھ سکتا ہے۔یہ ہے تمام مضمون جوان آیات کے باہمی تعاون سے ابھرتا ہے۔وَلَوْ الْقَی مَعَاذِيْرَہ کے مضمون کو آپ دیکھ لیں اور پھر یہ دیکھیں کہ باوجود اس کے کہ نفس بہانے بناتا ہے پھر بھی انسان پہچان سکتا ہے تو اس کے بعد زینا کا معنی پھر ایسا کرنا جو اس آیت سے متصادم ہو جائز ہی نہیں ہے۔زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان ایک غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے، کھوئی کھوئی حالت میں رہتا ہے، جو کچھ کرتا ہے اسے اچھا دکھانے میں یہ بات بھی شامل کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا دیکھے اور اچھا دکھائے۔اس وجہ سے وہ بسا اوقات صداقتوں پہ بھی پردے ڈال لیتا ہے لیکن چاہے تو اپنے نفس کو معلوم کر سکتا ہے اور وہ لوگ جو صداقت پر ہیں یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي یہ اعلان کرتے ہیں کہ یقینا ہم کھلی کھلی واضح روشن صداقت پر قائم ہیں۔فیصلہ تو مرنے کے بعد ہو گا لیکن یقین اس دنیا میں بھی ہوتا ہے۔دوسرا جب کہتا ہے مجھے بھی اسی طرح یقین ہے پھر بحث اٹھتی ہے کہ کس کو کیا اختیار ہے۔اب یہ مضمون اس منزل میں داخل ہو جاتا ہے جہاں دو دعوے دار آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ایک نے کہا تم کہتے ہو ہم بصیرت پر ہیں ، ہم بھی یقین سے اعلان کرتے ہیں کہ ہم بصیرت پر ہیں۔تم کہتے ہو تمہیں کامل یقین ہے تم بچے ہو، ہم بھی کہتے ہیں ہمیں کامل یقین ہے کہ ہم سچے ہیں۔اب وہاں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسانی ضمیر کی آزادی کے ساتھ جو خدا نے انصاف فرمایا ہے