خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 634
خطبات طاہر جلد 15 634 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء کہ ہم کسی کو ہر بات اس کو اچھا کر کے دکھاتے ہیں اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ ہر شخص جو جھوٹا ہوغلط کار ہو وہ جائز طور پر اس بات کو اچھا دیکھتا ہے اور اس کا یہ اچھادیکھنا اسے سزا سے بری کرتا ہے۔یہ دوالگ الگ مضمون ہیں چونکہ باریک ہیں اس لئے میں آپ کو سمجھانا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ روز مرہ زندگی میں ان کا سمجھنا ضروری ہے۔ہر چیز کو اچھا دیکھنا یہ نفس کے اندر جو دھوکہ دینے کی صفت ہے اس کی طرف اشارہ ہے۔ہم دکھاتے ہیں سے مراد یہ ہے کہ ہم نے نفس کو اس طرح تشکیل دیا ہے کہ ہر انسان اپنے نفس کے دھو کے میں مبتلا رہتا ہے ہمیشہ۔لیکن اس کے باوجود ہم نے اسے یہ طاقت بخشی ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے اندر کی خرابیوں کو دیکھے، جانچے ، پہچان لے اور معلوم کر لے کہ وہ غلط ہے۔یہ بصیرت والے مضمون کے وَلَوْ الْقَی مَعَاذِیرَہ والے مضمون کے علاوہ یہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے بھی ثابت شدہ مضمون ہے۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ انسان جو بھی فیصلہ کرتا ہے اس کے اندر خدا تعالیٰ نے طاقت رکھی ہے کہ کھرے اور کھوٹے میں تمیز کر سکے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَمَهُ الْبَيَانَ (الرحمان : 4، 5) بیان کا معنی بعض لوگ صرف اظہار بیان کی طاقت سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ بات غلط ہے۔بیان کا تعلق بینہ سے ہے اور بینہ ان صداقتوں کو کہا جاتا ہے جو لازمی اور حقیقی اور دائمی ہیں۔وہ صداقتیں جو انسان کی ضمیر پر کندہ ہیں۔ہرانسانی فطرت ان صداقتوں کے خمیر سے اٹھائی گئی ہے اور ان کو پہچانا اور ان کے مقابل پر بدی سے ان کی تمیز کرنا یہ بیان ہے یعنی کھرے کھوٹے کی تمیز کی طاقت صحیح کو غلط سے جدا کرنا۔پس بیان اگر اندر ہو تو پھر وہ بیان بن سکتا ہے۔باہر کوئی انسان بھی جو اپنے مضمون پر پورا عبور نہ رکھتا ہوا سے پتا نہ ہو کہ غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے۔اس مضمون پر بات نہیں کر سکتا۔پر چہ دینے والا طالب علم پر چہ بھی نہیں دے سکتا کیونکہ بیان کا ایک اندرونی تعلق ہے اور ایک بیرونی تعلق ہے۔جس شخص کو اندرونی طور پر اپنی کیفیات کا قطعیت سے علم ہو ، جس مضمون کو بیان کرنا چاہتا ہے اس کے سب پہلوؤں پر حاوی ہو وہ جب بیان کرے گا تو کھل کر بیان کرے گا۔جب یہ علم نہ ہو تو پھر اس کو مضمون بیان کرتے وقت المجحصن محسوس ہوتی ہے۔وہ کبھی ادھر بھٹکتا ہے کبھی ادھر بھٹکتا ہے۔الفاظ کی تلاش کرتا ہے وہ صحیح ملتے نہیں۔غرضیکہ اس کا سارا بیان ہی الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔تب ہی غصے کی حالت میں بیان کی طاقت ختم ہو جاتی ہے اور