خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد 15 633 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء ہے تعاون کریں گی تو مضمون بالکل کھل جائے گا۔پس اس پہلو سے جہاں تک اپنے اشتباہ کا تعلق میں اس کی طرف واپس آتا ہوں۔یہ خیال کر لینا کہ ان آیات کا یہ معنی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کسی قطعی حقیقت کا علم ہو نہیں سکتا یہ غلط ہے۔یہ اگر مضمون ہو تو سارا نظام دین درہم برہم ہو جائے۔اس لئے یہاں ایک اور بات کی بحث چل رہی ہے وہ بنیادی حقوق کی بحث ہے۔انسان کے خدا پر بھی حقوق ہیں، بندوں پر بھی حقوق ہیں اور خدا کے انسان پر بھی حقوق ہیں اور بندوں پر بھی حقوق ہیں۔یہ مضمون قرآن کریم کی رو سے کامل عدل پر قائم ہے اور عدل کا جو نظام ہمیں ان حقوق کے معاملات میں ملتا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔چنانچہ جو مضمون ان دو آیات کے حوالے سے میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے یعنی ہر شخص شاکلیہ پر کام کرتا ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون صحیح ہے اور ہر شخص کو اپنی چیز اچھی دکھائی دیتی ہے اور قیامت کے دن جب تم خدا کی طرف لوٹ جاؤ گے تو وہ فیصلہ کرے گا۔ان باتوں میں کہیں تضاد تو نہیں۔یہ مضمون ہے جو میں آپ کے سامنے کھول رہا ہوں۔کوئی تضاد نہیں بلکہ ایک ایسا مضمون بیان ہو رہا ہے جو انسان کو بشریت کے تقاضے سکھاتا ہے ،اس کو عجز کی اعلیٰ تعلیم دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس سے خدائی کے حق کو چھینتا ہے اور اس کو بتا تا ہے کہ تم اپنی عقل پر بھروسہ کرنے کے باوجود خدائی اختیارات اپنے قبضے میں لینے کے اہل نہیں ہو، نہ تمہیں یہ دیئے جائیں گے۔یعنی دو آیات ہیں جو انسان اور انسان کے درمیان ایک بنیادی عدل کی تعلیم دینے والی ہیں۔پس ہر شخص جو کسی بات کو حق سمجھے خواہ وہ حق ہو یا نہ ہو، یہ قرآن کریم نہیں کہہ رہا کہ ہر بات جو انسان سمجھتا ہے وہ حق ہی ہوتی ہے ، یہ بحث یوں ہے کہ اگر ایک انسان کسی بات کو حق سمجھتا ہے تو یہ فیصلہ اللہ ہی کر سکتا ہے کہ واقعہ وہ حق سمجھ بھی رہا تھا کہ نہیں ، جھوٹا تو نہیں تھا اور اگر وہ سچا ہو حق سمجھنے میں تو اس کو سزامل ہی نہیں سکتی۔پس سزا کا تعلق لازماً اس احساس کے ساتھ ہے جو انسان کو مجرم کرتا ہے اور اس کا ضمیر ہے جو ہمیشہ اس کو مجرم کرتا ہے۔پس جہاں تک دنیا کے دیکھنے کا تعلق ہے، دنیا اس کے ضمیر کی آواز تو نہیں سنتی ، اس کو پتہ ہی نہیں کہ اس کے اندر کیا کیا آواز میں اٹھتی رہیں اور کیوں یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس کو اپنی غلطی کا چاہے تو علم ہو سکتا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِیرَهُ (القیامہ: 15، 16 ) کہ یہ کہہ دینا