خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 632
خطبات طاہر جلد 15 632 خطبہ جمعہ 16 راگست 1996ء کرنے والے ہیں ان پر بھی تم تحکم نہ کرو اور اس یقین کے باوجود کہ خدا ایک ہے ان کے بتوں کو بھی گالیاں نہ دو۔وجہ کیا ہے : كَذلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: 109) کیونکہ ہم نے اس طریق پر ہر شخص کو اس کا مسلک خوب صورت کر کے دکھایا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں ہی ٹھیک ہوں۔ہاں جب تم مرجاؤ گے ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ ان لوگوں کا ،سب کا جب رجوع خدا کی طرف آخر پہ ہو گا تو وہ فیصلہ کرے گا کہ کون صحیح تھا اور کون غلط تھا۔ان دو آیات کے پیش نظر کیا دعوت الی اللہ کرنا درست بھی ہے کہ نہیں۔کیا ہم یقین کے ساتھ یہ کہہ بھی سکتے ہیں کہ نہیں کہ ہم حق پر ہیں؟ کیا ان آیات کا مضمون اس زعم سے متصادم تو نہیں کہ ہر انسان کہے کہ میں حق پر ہوں؟ زیادہ گہرائی سے جب ان آیات کے مضمون پر غور کیا جائے تو یہ متصادم نہیں ہے بلکہ بالکل اور مضمون ہے جو بیان ہورہا ہے۔جہاں یہ فرمایا : كُلُّ يَعْمَلُ عَلى شَاكِلَتِه جب یہ فرمایا فَرَ بُكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَاهُدى سَبِيلًا وہاں ساتھ یہ بھی تو اعلان فرمایا عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيُّ (يوسف: 109 ) کہ میں اور میرے ماننے والے تو بصیرت پر قائم ہیں ، دن کی روشنی کی طرح صداقت کو دیکھ رہے ہیں اور پہچان رہے ہیں اور تم اندھیروں میں بھٹک رہے ہو تو چونکہ قرآن کریم کی کوئی آیت کسی دوسری آیت سے ٹکراتی نہیں ہے اس لئے بظاہر متصادم آیات کو اکٹھا دیکھ کر ایسا نتیجہ نکالنا پڑے گا جو ان تینوں کے اندر تصادم نہیں پیدا کرتا بلکہ تعاون پیدا کرتا ہے اور تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَی کا ایک یہ بھی مضمون ہے۔تو نیکی کے حصول کے لئے تم خود جیسے دوسروں سے تعاون کرتے ہو ،تعاون چاہتے ہو قرآن کریم کی آیات بھی ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ تم قرآن کریم کی متعلقہ آیات کو اکٹھا دیکھو اور ان کو متصادم پاؤ کیونکہ ایک آیت جب دوسرے سے متصادم ہو تو ان کے مصنف کے دماغ میں خلل کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ تمام حکمتوں کا سر چشمہ ہے۔اس لئے یہ یقینی اور قطعی حقیقت ہے ، اہل بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کبھی بھی متضاد کلام نازل نہیں ہوسکتا، نہ ہوا ہے۔پس جہاں تصادم دکھائی دے وہاں مومن کا فرض ہے ،اس کے تقویٰ کا تقاضا ہے کہ تصادم کے پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے تعاون کا رنگ نکالے اور جب آیات ایک دوسرے سے