خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 620

خطبات طاہر جلد 15 620 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء طرف بلا سکے۔پس مراد یہ ہے کہ توجہ رکھنا اس بات کی طرف تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ جب تم بلاؤ تو اپنے نفس کی بھی نگرانی کرو۔جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تمہاری بات میں طاقت تب ہی پیدا ہوگی اگر دنیا کو کم سے کم یہ معلوم ہو کہ جن باتوں کی طرف تم بلاتے ہو تم دیانت داری سے ان کو قبول کرتے ہو، جہاں تک توفیق ہے ان پر عمل کی کوشش کرتے ہو۔یہ جو شرط ہے ” جہاں تک تو فیق ہے، یہی وہ شرط ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت میں داخل فرما دی۔بیعت کے الفاظ میں داخل فرما کر ہر ایسے شخص کو ایک قسم کی جرات تو نہیں کہنا چاہئے ایک قسم کا حوصلہ دے دینا جو اتنا بڑا عہد کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔مجھ سے ایک دفعہ ایک غیر مسلم نے جو بیعت کا ارادہ کر چکا تھا یہی سوال کیا کہ دل تو میرا بہت چاہ رہا ہے مگر اتنا بڑا وعدہ ہے جس کے لئے ہمت نہیں پڑتی۔تو میں نے کہا تم الفاظ پر غور کرو اس میں یہ ہے کہ میں کوشش کرتا رہوں گا۔کیا تم دیانت داری سے نیکی کی کوشش بھی نہیں کرو گے تو فورا اس کو شرح صدر نصیب ہو گیا۔اس نے کہا نیکی کے جس مقام پر بھی ہو کوشش تو کرنی ہی کرنی ہے اور بدی سے چھٹکارے کی بھی کوشش ہی ہوتی ہے۔مگر کوشش میں اور کوشش میں جو فرق ہوتا ہے۔ایک کوشش وہ ہے جو خالص نیت کے ساتھ اس پختہ ارادے کے ساتھ کی جاتی ہے کہ جب تک طاقت ہے میں یہ ہمت نہیں چھوڑوں گا ، یہ کوشش نہیں چھوڑوں گا کہ بدیوں کو ترک کروں اور نیکیوں کو اختیار کروں۔ایک کوشش کا مطلب ہے کہ خیال ہے کہ ہاں چھوڑ دیں گے لیکن با ہمت ارادہ پیدا نہیں ہوتا اور باہمت عمل اس کے پیچھے نہیں آتا۔ایسی کوشش بے معنی ہے۔پس نیکی اور بدی کا آخری فیصلہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے وہ اس بات پر ضرور نگاہ رکھتا ہے اور احادیث نبویہ سے یہ قطعاً ثابت ہے کہ کوشش میں سچائی تھی کہ نہیں اگر کوشش سچی ہے تو عہد بیعت سچا ہے اگر کوشش سچی ہے تو آپ کو خیر کی طرف بلانے کا حق ہے۔اگر کوشش کچی ہے تو معروف کی طرف بلانے کا حق ہے چاہے آپ میں خامیاں بھی موجود ہوں۔کوشش سچی ہے تو بدیوں سے روکنے کا حق ہے چاہے آپ میں خامیاں موجود ہوں۔مگر خامیوں کو پالتے ہوئے ، ان کو اس طرح قبول کرتے ہوئے گویا وہ آپ کی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں پھر جب آپ یہ کام کریں گے تو اس کو منافقت کہتے ہیں اور منافقت میں کوئی برکت نہیں ہوتی۔پس آپ نے اپنی کمزوریوں کے باوجود دعوت الی اللہ کرنی ہے۔آپ نے اپنی کمزوریوں کے باوجود نیکیوں کی طرف یا معروف باتوں کی طرف بلانا ہے اور بد باتوں سے روکنا ہے اور آپ نے پوری کوشش کرنی ہے کہ آپ