خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 621
خطبات طاہر جلد 15 621 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء میں نفاق نہ ہو۔نفاق تب پیدا ہوتا ہے اگر انسان ایک چیز کو قبول کر کے اس پر قائم ہوتے ہوئے راضی ہو کر پھر یہ دکھاوا کرے کہ میں تو روک رہا ہوں ، میں تو نہیں ایسا۔اگر اس پہلو سے کوئی شخص کرتا ہے تو وہ بہت بڑا جرم ہے جو کفر سے بھی بڑھ جایا کرتا ہے۔اس لئے ان احتیاطوں کو پیش نظر رکھیں کیونکہ نیکی کا مضمون احتیاط کے تقاضے رکھتا ہے اور ان تقاضوں کا مثبت جواب نہیں دینا ہوگا۔بہت بار یک محنت کا مضمون ہے ، بار یک نظر کا مضمون ہے۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں جماعت احمد یہ ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حق ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔اس کے ساتھ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کی اصلاح لازم ہے جب بھی ایک شخص کہتا ہے یہ کام نہ کرو تو اگر اس کا ضمیر زندہ ہے تو اسے خود بخود بتائے گا، ہیں ہیں تم کس بات سے روک رہے ہو تم تو یہی کام کرتے ہو۔پھر اگر وہ مجبور ہے دعوت دیتے چلے جانے پر تو اس کے اندر ایک عجز پیدا ہوگا، ایک انکساری پیدا ہوگی ، ایک غم پیدا ہو گا دعاؤں کی طرف متوجہ ہوگا۔وہ کہے گا اے خدا مجھے تو نے مامور کر دیا میں بے اختیار ہوں میری بدیاں بھی مجھ پر قابو پائے ہوئے ہیں تو ہی ہے جو مجھے ان سے نجات بخشے۔تو اس احساس کے ساتھ نیکی کے حصول کے لئے ایک ایسی گہری تڑپ پیدا ہو جاتی ہے اور دعاؤں کے ذریعے اس تڑپ کو ایک تقویت نصیب ہوتی ہے۔ایک اندرونی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اس تڑپ میں جس کی وجہ سے بالآخر نیکیوں کو غلبہ مل جاتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو مثبت فوائد نصیحت کرنے والے کے لئے رکھتا ہے اور نیکی کی طرف بلانے والے کے لئے رکھتا ہے۔بدیوں سے روکنے والے کے لئے رکھتا ہے۔اگر اس طریق پر آپ اس آیت کریمہ پر عمل کریں تو ایک مسلسل اصلاح کا نظام جاری ہوگا۔آپ صاحب امر ہوں گے دوسروں کے لئے تو اپنے لئے بھی صاحب امر ہوں گے اور وہی امر کا مالک ہے جو اپنی دنیا پر بھی حکومت کرتا ہے اور غیر کی دنیا پر بھی حکومت کرتا ہے اور غیر پر امر کی طاقت اپنے پر امر کی طاقت سے پیدا ہوتی ہے۔اسی کا نام قوت قدسیہ ہے۔ورنہ قوت قدسیہ کا اور کوئی مضمون نہیں ہے، کوئی مفہوم نہیں بنتا۔آپ جتنی سچائی کے ساتھ اپنے آپ کو نیکیوں کے حکم دیں گے اور اپنے وجود کو بدیوں سے روکنے کی کوشش کریں گے جوں جوں آپ کا قدم آگے بڑھے گا آپ میں ایک قوت قدیسہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔پھر جب آپ غیروں کو روکیں گے اور غیروں کو بلائیں گے کسی اچھی