خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 619
خطبات طاہر جلد 15 619 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء نصیحتیں ہیں اور بہت سے فوائد مضمر ہیں۔اول تو میں نے جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا وہ قوم جسے نیکی کی باتیں کہنے کی اور نیکی کی باتوں میں تعاون کرنے کی عادت ہو کیونکہ دوسرا جوڑ اس آیت کا وہ ہے کہ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوى تمہیں جب نیکی کی طرف بلایا جائے تو تعاون کیا کرو پیچھے نہ بیٹھ جایا کرو۔فرمایا جن کو یہ توفیق ہو وہ لوگ اطاعت کے گویا مرقع بن جاتے ہیں کیونکہ اطاعت کا مضمون اوپر سے نیچے تک نیکیوں سے تعلق رکھتا ہے۔جن کو یہ پوچھے بغیر اطاعت کی عادت پڑ جائے کہ تم مامور ہو بھی کہ نہیں کیسے ممکن ہے کہ جن کو خاص کاموں پر مامور کیا جائے ان کی اطاعت کے متعلق سوال اٹھا ئیں۔پس بہترین اطاعت وہ ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے شروع ہوتی ہے اور بہترین دعوت الی اللہ وہ ہے جو دعوت الی الخیر سے شروع ہوتی ہے۔یہ تین باتیں ہیں اگر جماعت احمد یہ مضبوطی سے پکڑلے تو جماعت احمدیہ کی ہمیشہ کی بقاء کے لئے جب تک وہ ان باتوں پر قائم رہے یہ ضمانت ہو جائے گی۔یہ تین باتیں اگر جماعت مضبوطی سے پکڑلے تو ان کی دعوت الی اللہ میں بھی غیر معمولی طاقت پیدا ہو جائے گی اور بنی نوع انسان ان کو اپنا سچا ہمدرد سمجھنے پر مجبور ہوں گے لیکن ایک اور فائدہ جو میرے پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے ساتھ جب یہ فرمایاوَعَمِلَ صَالِحًا تو اس کا تعلق صرف دعوت الی اللہ سے نہیں بلکہ يَدْعُونَ إلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ سے بھی ہے کیونکہ قرآن کریم یہ بات خوب کھول رہا ہے کہ اگر تم بد کردار ہو تو تمہیں نیکیوں کی طرف بلانے کا حق نہیں رہتا۔اگر تم جھوٹے ہو تو تم سچائی کی طرف بلانے کی طاقت نہیں رکھتے۔بعض دفعہ ایک کمزور آدمی بھی مجبور ہے ان اوامر کی طرف بلانے پر جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں اوامر کے طور پر لیکن جتناوہ ان اوامر پر خود عمل نہ کرتا ہو، ان احکامات پر جس حد تک ہو خود عاری ہو عمل کرنے سے اس حد تک اس کی طاقت کم ہو جاتی ہے اور ضروری نہیں کہ ایک شخص جب تک کمال درجے کی نیکی کی انتہاء تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک کسی کو نیکی کی طرف بلائے نہ۔یہ تو ناممکن ہے کیونکہ اس صورت میں سب نیکی کی طرف بلانے والے ہار کے بیٹھ رہیں گے۔اگر وہ اپنی بدیوں پر نظر ڈالیں اپنی کمزوریوں پر نگاہ رکھیں تو کوئی بھی اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھے گا کہ وہ لوگوں کو نیکی کی