خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 618
خطبات طاہر جلد 15 618 خطبہ جمعہ 9 راگست 1996ء بیماری کے لحاظ سے ہر شخص کی طاقتیں الگ الگ ہیں لیکن ایک صالح امت میں ایک بڑا حصہ ایسا ضرور موجودرہتا ہے جو اپنے آپ کو بھلائی کی طرف بلانے پر وقف کر دے اور یہی وہ ہدایت ہے جو اس آیت کے آغاز میں دی گئی ہے۔وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وہ وقف ہو جائے اس بات پر کہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور بھلائی کی طرف بلانا اور يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ میں ایک فرق کیا گیا ہے۔بھلائی کی طرف بلانا ایک دعوت عام ہے جس کا در اصل تعلق دعوت الی اللہ سے ہے کیونکہ قرآن کریم نے جہاں دعوت الی اللہ کا پیغام دیا ہے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا سب سے اچھی بات ،سب سے پیاری بات ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ( حم السجدہ:34) اس سے زیادہ خوبصورت بات کیا ہوگی جو خدا کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرتا ہو، جس کے اعمال اس کی اس دعوت کو سچا کر دکھا ئیں۔تو یہ خیر جو ہے یہ دراصل خدا کی طرف بلانا ہے اور نیک کاموں کی طرف بلانا ایک ہی بات بن جاتا ہے۔نیک کاموں کی طرف بلانے کا مطلب لازم نہیں کہ خدا کی طرف بلایا جائے مگر خدا کی طرف بلانے کا لازماً یہ مطلب ہے کہ نیک کاموں کی طرف بلالیا جائے۔پس خدا کی طرف بلانا حاوی ہے ہر نیکی کے اوپر۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ رَوت اور امر میں دیکھیں کیسا فرق کر کے دکھا دیا۔اگر خیر عام معروف ہوتی تو اس کے لئے بھی امر کا لفظ استعمال ہونا تھا۔پھر دعوت ایک ایسی چیز ہے جسے اگلے رڈ بھی کر لیتے ہیں قبول بھی کر لیتے ہیں مگر امر میں ان کو اختیار نہیں ہے رڈ کرنے کا تو فرمایا تم خدا کے رستوں کی طرف بلاؤ خواہ لوگ مانیں یا نہ ما نہیں بلاتے چلے جاؤ ان کو اختیار ہے قبول کریں یا نہ کریں لیکن جب تم نیک کاموں کی طرف بلاؤ جو عرف عام میں نیک ہیں تو تم صاحب امر ہو جاؤ گے۔پھر وہ خدا کو نہ بھی مانیں تو تمہاری باتوں کو انہیں ماننا پڑے گا کیونکہ اچھی باتوں کا انکار پاگل پن ہے اور کبھی بھی کوئی شخص اچھی باتوں کے تعلق میں حوالے نہیں مانگا کرتا کہ تمہیں کس نے اختیار دیا تھا۔پس يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ایک عام حکم ہے نیکی کا جسے جماعت کو اختیار کرنالازم ہے۔وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور بدیوں سے روکتے چلے جائیں۔ان باتوں میں بہت سی