خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 614
خطبات طاہر جلد 15 614 خطبہ جمعہ 9 اگست 1996ء پس تعاون کس بات پر کرو۔اگر آپ کسی کو کچھ کہیں تو پھر تعاون کا سوال پیدا ہوتا ہے کسی بات سے روکیں پھر تعاون کا سوال پیدا ہوتا ہے اور ہر جگہ کسی طاقت کے حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔قرآن کریم اس پہلو سے ساری امت کو ہی صاحب امر بنا دیتا ہے۔اب حقیقت میں صاحب امر ہونے کا راز اس میں ہے ان دو آیات کے مضمون کو سمجھ لیں تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ اسلام میں کوئی ڈکٹیٹر شپ نہیں ہے۔جہاں اطاعت کا حکم ہے وہ پابند ہے نیکی کی باتوں کے ساتھ ، اتنا پابند ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی کی عورتوں کو بیعت لیتے وقت جو الفاظ وحی کے ذریعے سکھلائے گئے جو قرآن کریم میں موجود ہیں ان میں یہ ہے کہ ان سے بیعت کے وقت یہ عہد لیا کرو کہ معروف باتوں میں تیری اطاعت کریں گی۔میں نے پہلے ایک دفعہ اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی کہ معروف باتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نعوذ بالله من ذلک حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ غیر معروف باتوں کا حکم دے سکتے تھے۔معروف باتوں سے مراد آپ کے دائرہ حکم کو محدود کرنا نہیں بلکہ بڑھانا اور وسعت دینا ہے۔قرآن کریم میں جو او امر اور نواہی ہیں جو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرتے ہیں یا مومنین کو مخاطب کرتے ہیں ان کے علاوہ بھی بہت سی نیکی کی باتیں ہوتی ہیں جو ان کی تشریحات سے تعلق رکھتی ہیں اور براہ راست تشریح کا حوالہ دے کر کی جائے یا نہ کی جائے ہراچھی بات کی بنیاد قرآن کریم میں موجود ہے اور یہ بحث اٹھانے کی ضرورت نہیں کہ قرآن کریم کی فلاں آیت میں یہ بات اس طرح ہے اس لئے اس کے تعلق میں تمہیں میری ہدایت پر عمل صلى الله کرنا چاہئے۔پس آنحضرت ﷺ تو تمام تر وحی کی بات فرمایا کرتے تھے پھر یہ جوفر مایا گیا کہ معروف میں میری اطاعت کرو گی اس سے مراد یہ ہے کہ عورتوں میں اس بات کا کوئی واہمہ تک نہ رہے کہ جب بھی ہمیں حکم ملے ہم یہ پتا کریں کہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ نہیں۔معروف تو ایسی چیز ہے جو ہر زمانے کے ہر انسان پر ، خطہ ارض کے ہر انسان پر برابر اطلاق پاتی ہے۔معروف بات وہ ہے جو عرف عام میں دیکھنے سے اچھی معلوم ہو۔اس کے لئے حکم کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔صاحب امر کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔تو مراد یہ ہے کہ زندگی کے کسی شعبے سے تعلق رکھنے والی بات ہو خواہ واضح طور پر قرآن کریم کے اوامر اور نواہی میں اس کا ذکر ہو یا نہ ہو تم پھر بھی اطاعت کرو گی اور اوامر و نواہی میں اطاعت کے لئے تو لازم ہے کہ ہر مومن جو بیعت کرتا ہے وہ ضرور