خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 613 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 613

خطبات طاہر جلد 15 613 خطبہ جمعہ 9 راگست 1996ء بهترین اطاعت امر بالمعروف ونهى عن المنكر ، جبکہ بہترین دعوت الی اللہ دعوت الی الخیر ہے۔(خطبه جمعه فرموده 9 اگست 1996ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) ( آل عمران : 105 ) پھر فرمایا: قرآن کریم کی جس آیت کو میں نے گزشتہ خطبہ کا عنوان بنایا تھا وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدہ: 3) والی آیت تھی یعنی وہ آیت جو نصیحت کرتی ہے کہ اچھی باتوں میں نیکیوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور بری باتوں میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو۔قرآن کریم بہت سے مضامین کو جوڑوں کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ایک آیت کا جوڑا ایک اور جگہ ملتا ہے اور دونوں جوڑے ایک دوسرے کے مضمون کو تقویت دیتے ہیں۔تو تعاون سے مراد کیا ہے؟ صرف تعاون سے مراد یہ نہیں کہ جس چیز کی تمہیں ضرورت ہے وہ مانگو اور وہ دوسرا فریق تعاون کرتے ہوئے چیز تمہیں دے دے۔تعاون کا اصل حقیقی مضمون اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے جو میں نے آج تلاوت کی ہے اور اسی لئے گزشتہ خطبہ کے آخر پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کے وہ ارشادات بھی آپ کے سامنے رکھے جن کا تعلق نیکیوں کا حکم دینے اور بلدیوں سے روکنے سے ہے۔